سلسلہ احمدیہ — Page 587
587 ہیں۔اس میدان میں بھی ہم نمونے دکھائیں گے۔پس دعائیں کریں اور ان کو دعاؤں کی تلقین کریں۔صدقے دیں اور ان کو صدقوں کی تلقین کریں۔صبر کریں اور ان کو صبر کی تلقین کریں کیونکہ قرآن کریم کی سورتوں سے پتہ چلتا ہے کہ آخری زمانے میں وہی لوگ فتح یاب ہوں گے کہ جن کے متعلق فرمایا وَتَوَاصَوْا بِالصَّيْرِ وَتَوَاصَوْا بِالْمَر حمة البلد: 18 ) کہ وہ صبر کی تلقین صبر کے ساتھ کیا کرتے تھے یا کیا کریں گے اور رحمت کی تلقین رحمت کے ساتھ کرتے تھے۔پس میں نے فیصلہ کیا ہے کہ دس ہزار پاؤنڈ جو ایک بہت معمولی قطرہ ہے جماعت کی طرف سے افریقہ کے بھوک سے فاقہ کش ممالک کے لئے پیش کروں۔۔۔۔اور ساری جماعت بحیثیت جماعت بھی کچھ نہ کچھ صدقہ نکالے۔جماعت کے ایسے فنڈ ہوتے ہیں جن میں صدقات یا زکواۃ وغیرہ کی رقمیں ہوتی ہیں۔کچھ تو از منا مقامی غریبوں پر خرچ کرنی پڑتی ہیں، کچھ ایسی بھی ہوتی ہیں جو اس کے علاوہ بچ جاتی ہیں، وہ "قفو" کہلا سکتی ہیں۔تو قرآن کریم فرماتا ہے: وَيَستَلُونَكَ مَاذَا يُنفِقُونَ قُلِ الْعَفُو ( البقره: 220) اس عفو کا ایک یہ بھی معنی ہے کہ جو کچھ تمہارے پاس ان مذات میں سے بیچ سکتا ہے وہ بچاؤ اور غرباء کی خدمت پر خرچ کرو۔یعنی اور علاقوں والے غرباء کی خدمت پر بھی خرچ کرو اور اسی طرح ذاتی طور پر بھی افراد جماعت خرچ کریں۔اگر چہ جماعت کی ساری دولت خدا ہی کی دولت ہے اور خدا ہی کی خاطر نیک کام پر خرچ ہوتی ہے لیکن ایک یہ بھی میدان خدا ہی کی خاطر خرچ کرنے کا میدان ہے۔پس میں کوئی معین تحریک نہیں کرتا مگر میں یہ تحریک کرتا ہوں کہ خالصہ اس نیت کے ساتھ کہ ہمارے ان صدقات کو اللہ تعالی امن عالم کے حق میں قبول فرمائے ، مسلمانوں کے مصائب دُور کرنے کے لئے قبول فرمائے ، جتنا ممکن ہو صدقات دیں۔ہماری دعائیں بھی ان دو باتوں کے لئے وقف رہیں اور ہمارے صدقے بھی جس حد تک ہمیں توفیق ہے ان نیک کاموں پر خرچ ہوں اور یہ جو سارے صدقات ہوں گے یہ خالصہ افریقہ کے فاقہ زدہ ممالک پر خرچ کئے جائیں گے۔اللہ تعالی ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے ان بھائیوں کی بھی آنکھیں کھولے جن کو قرآن نے کھلی کھلی نیکی کی تعلیم دی تھی لیکن اس سے یہ آنکھیں بند کئے بیٹھے ہیں۔“ خطبہ جمعہ فرمودہ 18 جنوری 1991ء - خطبات طاہر جلد 10 صفحہ 5351)