سلسلہ احمدیہ — Page 578
578 محروم رہتے ہیں اس کی وجہ ان کی حقیقت سے ناواقفیت ہے۔عید الفطر در اصل شجر رمضان کا ایک شیریں پھل ہے۔رمضان کے دو بڑے گہرے سبق ہیں۔عبادت الہی اور بنی نوع انسان کے ساتھ سچی ہمدردی۔پس عید کا حقیقی سرور حاصل کرنا ہے تو عبادت پر زور دیں اور دوسرے غرباء کے دکھ میں شریک ہوں اور اپنے سکھ ان کے ساتھ تقسیم کریں۔اس کی عملی شکل بیان کرتے ہوئے حضور نے فرمایا: آج عید کی نماز کے بعد ضروری امور سے فارغ ہو کر اگر وہ لوگ جن کو خدا نے نس دیتا زیادہ دولت عطا فرمائی ہے زیادہ حمول کی زندگی بخشی ہے وہ کچھ تحائف لے کر غریبوں کے ہاں جائیں اور غریب بچوں کے لئے کچھ مٹھائیاں لے جائیں۔۔۔بچوں کے لئے جو ٹافیاں یا چاکلیٹ آپ نے رکھے ہوئے ہیں وہ لیں اور بچوں سے کہیں آؤ بچو آج ہم ایک اور قسم کی عید مناتے ہیں۔ہمارے ساتھ چلو ہم بعض غریبوں کے گھر آج دستک دیں گے۔ان کو عید مبارک دیں گے۔ان کے حالات دیکھیں گے اور ان کے ساتھ اپنے سکھ بانٹیں گے۔اس طرح اگر آپ غریب لوگوں کے گھروں میں جائیں گے اور ان کے حالات دیکھیں گے تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ بعض لوگ ایسی لڑتیں پائیں گے کہ ساری زندگی کی لذتیں ان کو اس لذت کے مقابل پر ہیچ نظر آئیں گی اور حقیر دکھائی دیں گی۔کچھ ایسے بھی واپس لوٹیں گے کہ ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہوں گے اور وہ استغفار کر رہے ہوں گے۔۔ان آنسوؤں میں وہ اتنی لذت پائیں گے کہ دنیا کے قہقہوں اور مسرتوں اور ڈھول ڈھمکوں اور بینڈ باجوں میں وہ لذتیں نہیں ہوں گی۔ان کو بے انتہا اہدی لذتیں حاصل ہوں گی اور زائل نہ ہونے والے بے انتہا سرور ان کو عطا ہوں گے۔یہ ہے وہ عید جو محمد مصطفی میل ایلیم ہے وہ عید جو در حقیقت بچے مذہب کی عید ہے۔“ روزنامه الفضل ربوہ 26 جولائی 1983ء) اس تحریک پر لبیک کہتے ہوئے جماعت نے خوشیوں کے نئے چمن دریافت کئے اور بہت سے افراد جماعت ذاتی تجربات کے ذریعہ حضور کے فرمان کی سچائی کے گواہ بن گئے۔اس تحریک کے ثمرات کا ذکر کرتے ہوئے خطبہ عید الفطر 5 اپریل 1992 ء میں حضور رحمہ اللہ نے فرمایا: ایک دفعہ میں نے عید کے موقع پر یہ نصیحت کی تھی کہ بچی عید تو وہی ہوتی ہے جس