سلسلہ احمدیہ — Page 577
577 ، حضرت خلیفہ امسح الرابع رحم اللہ تعالی نے سب سے زیادہ مصیبت زدگان کے لئے 37 کوارٹرز تعمیر کروانے کی ہدایت بھجوائی۔چنانچہ ان کوارٹرز کے مکمل اخراجات جماعت احمدیہ کے مرکزی فنڈ سے ادا ہوتے۔2001ء، 2002ء میں بھارت کے صوبہ گجرات میں زبر دست زلزلہ آیا اس میں بہت سے مکانات منہدم ہوئے یا ان کو نقصان پہنچا۔اس موقع پر حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ نے پچیس مکانوں کی مرمت کے لیے پچیس پچیس ہزار روپے مرحمت فرمائے۔بھارت کے ایسے احباب جو کہ اپنے وسائل سے اپنے مکانات تعمیر نہیں کروا سکتے انہیں مرکزی فنڈ سے تعمیر مکان کے لیے امداد و قرضہ فراہم کیا جاتا رہا۔دسمبر 1992ء میں بھارت کے صوبہ بہار میں فرقہ وارانہ فسادات بھڑک اٹھے۔سینکڑوں افراد (ہندہ مسلم) کے گھر نذر آتش کر دیئے گئے۔بہت سے مکانات یا تو منہدم کر دیئے گئے بالوٹ لئے گئے۔یہ انتہائی خطرناک صورتحال تھی۔جب یہ صورت حال حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالٰی کے علم میں لائی گئی تو آپ نے دس کوارٹرز تعمیر کرنے کا حکم فرمایا۔چنانچہ دو کالونیاں تعمیر کروائی گئیں۔ایک کا نام ظاہر کالونی اور دوسری کا نام کرشن کالونی رکھا گیا۔ان مکانات کی تعمیر کے مکمل اخراجات جماعت نے ادا کئے۔اور سب سے زیادہ متاثرہ مسلم اور ہند و افراد کو اس میں آباد کیا گیا۔یہ مکانات محض خدمت انسانیت کے جذبہ کے تحت تعمیر کیے گئے تھے اور پھر انہیں الاٹ کرتے وقت بھی ہر مذہب سے سب سے زیادہ ضرورتمندوں کا انتخاب کیا گیا تھا۔اگر چہ ان کالونیوں کی تعمیر مبیوت الحمد کے نام سے نہ تھی لیکن اس کی تعمیر کے جملہ اخراجات مرکزی فنڈ سے ادا ہوئے تھے۔خلاصه مواد آمده از شعبه تدوین ( تاریخ احمدیت بھارت) عید کے موقع پر غرباء کے ساتھ سکھ بانٹنے کی تحریک حضور رحمہ اللہ نے عید منانے کے انداز میں ایک غیر معمولی تبدیلی پیدا کرنے کی طرف جماعت کو توجہ دلائی۔12 جولائی 1983ء کو حضور نے خطبہ عید الفطر میں فرمایا کہ جولوگ عید کی لذتوں سے