سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 33 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 33

33 ہوں، یہ کے حالات سے بالکل مختلف ہیں۔اگر یہ خواہیں نفسیاتی ہوں، اگر یہ خواہیں نفس کے دھو کے ی کشوف نفس کے دھو کے ہوں تو نفس کی کیفیت تو یہ ہے اور دنیا کے سارے ماہرین نفسیات جانتے ہیں کہ جتنا زیادہ مایوسی بڑھتی چلی جائے اتنا ہی ڈرانے والی خوا ہیں آنی شروع ہو جاتی ہیں۔جتنا زیادہ انسان تاریکیوں میں گھر جاتا ہے اتنا ہی زیادہ ہولناک مناظر وہ دیکھنے لگتا ہے۔غموں کے مارے ہوئے ، مصائب کے ستائے ہوئے خوفوں میں مبتلا لوگوں کو Hallucination ( فریب خیال ) شروع ہو جاتے ہیں۔امن کی حالت میں بیٹھے ہوئے بھی ان کو خطرات دکھائی دینے لگتے ہیں۔یہ صرف سچوں کی علامت ہوتی ہے کہ انتہائی تاریکی کے وقت میں خدا ان سے روشنی کے وعدے کرتا ہے اور ان کو روشنی کے نمونے دکھاتا ہے۔انتہائی تکلیف کے وقت میں بھی خدا تعالیٰ ان کے ساتھ دل آرام باتیں کرتا ہے، ان کے دلوں کو راحت اور اطمینان اور سکون سے بھر دیتا ہے۔خطبہ جمعہ فرمودہ 28 دسمبر 1984ء ، خطبات طاہر جلد 3 صفحہ 769-775) الغرض مذکورہ بالا آرڈنینس کے نفاذ کے بعد ابتدائی ایام خصوصیت کے ساتھ تمام جماعت کے لئے انتہائی غم اور کرب کے ایام تھے۔اس نہایت ظالمانہ آرڈینینس کے خلاف کسی بھی احمدی کا غلط رز عمل بہت خوفناک نتائج پیدا کر سکتا تھا۔چنانچہ آرڈینینس کے نفاذ اور ہجرت سے قبل کے ایام میں حضرت خلیفہ اسیح الرابع نے خاص طور پر جماعت کو صبر اور دعاؤں اور عبادات کے قیام کی طرف خصوصی توجہ دینے کی تاکیدی نصائح فرمائیں۔متقی 28 اپریل 1984ء کو نماز عشاء کے بعد حضور رحمہ اللہ نے مسجد مبارک ربوہ میں حاضر ا حباب کو مخاطب کر کے ارشاد فرمایا کہ: یمیں آپ کو صبر کی تلقین کرنا چاہتا ہوں۔یادرکھیں سب سے بڑی طاقت صبر کی طاقت ہے جو الہی جماعتوں کو دی جاتی ہے اور جس کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔صبر دعاؤں کی طرف متوجہ کرتا ہے اور دعاؤں میں قوت پیدا کرتا ہے۔اور الہی جماعتوں کا صبر روحانیت میں تبدیل ہونے لگتا ہے۔اس لحاظ سے میں دیکھ رہا ہوں کہ جماعت ایک نئے روحانی دور میں داخل ہو رہی ہے۔لہذا یہ غم جو آپ کو ملا ہے اس کی حفاظت کریں اور اس کو دردناک دعاؤں میں تبدیل کرتے رہیں۔اگر آپ ایسا کریں گے تو آپ کی دعاؤں اور