سلسلہ احمدیہ — Page 489
489 تقریبات کی کوریج کی تفصیلات کو چھوڑتے ہوئے مختصر طور پر یہ کہنا کافی ہوگا کہ صرف چھ ماہ کے عرصہ میں ہونے والی کوریج کے مطابق ایک محتاط تخمینے کی روسے دنیا کی تقریبا ایک چوتھائی آبادی تک اس عرصہ میں احمدیت کا پیغام اور جشن تشکر کی تقریبات کی خبریں پہنچیں۔وَذَالِكَ فَضْلُ اللهِ يُؤْتِيهِ مَن يَشَاءُ صد سالہ جو بلی سال مکمل ہونے پر 23 مارچ 1990ء کو حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی نے مسجد فضل لندن میں خطبہ جمعہ میں اس سال میں نازل ہونے والے اللہ تعالیٰ کے بے انتہا فضلوں اور اس کی رحمت کے بیشمار نشانوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: کل بائیس تاریخ کو ہمارے جشن تشکر کے سال کا آخری دن تھا اور آج اللہ تعالٰی کے فضل کے ساتھ جماعت احمدیہ کی دوسری صدی کے دوسرے سال کا پہلا دن جو جمعتہ المبارک سے شروع ہورہا ہے اور ابھی چند دن تک رمضان المبارک بھی آنے والا ہے۔گزشتہ رمضان مبارک میں جماعت احمدیہ نے غیر معمولی طور پر اظہار تشکر کی کامیابی کی دعائیں مانگی تھیں۔اس رمضان مبارک کو اظہار تشکر کا شکر یہ ادا کرنے کا رمضان المبارک بنا دینا چاہئے کیونکہ اس کثرت کے ساتھ خدا تعالی کی رحمتیں نازل ہوئیں اور اس کثرت سے جماعت کی ادنی کوششوں کو فضل کے پھل لگے کہ اس کا بیان انسان کے لئے ممکن نہیں۔ہر سطح پر جماعت کے بڑوں اور چھوٹوں نے خدا تعالٰی کی رحمتوں اور غیبی تائیدات کے نمونے دیکھے اور ہر جگہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ جماعت کے ایمان کو نئی تقویت اور نئی زندگی ملی۔یہ تفاصیل۔۔۔۔۔۔ساری دنیا کے ایک سو نیس ممالک پر پھیلی پڑی ہیں اور ان کا اگر بہت ہی معمولی خلاصہ بھی نکال کر پیش کرنے کی کوشش کی جائے تو جیسا کہ آپ نے گزشتہ جلسے میں دیکھا تھا کئی گھنٹوں میں بھی اس خلاصے کا حق بھی اورا نہیں ہو سکا۔سال تشکر کا غیر معمولی پھل حضور رحمہ اللہ نے جشن تشکر کے سال میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہونے والی خوشخبریوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: