سلسلہ احمدیہ — Page 21
21 نہیں بلکہ ساری دنیا کے احمدیوں پر پھیلا ہوا تھا۔یہ وہ آرڈینس ہے جس کے ذریعہ پاکستان کے احمدیوں کو مذہبی آزادی اور آزادی ضمیر اور تمام بنیادی انسانی حقوق سے گویا کلی محروم کر دیا گیا۔حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ عجیب واقعہ ہوا ہے جو دنیا کی تاریخ کے لحاظ سے پہلا ہے۔یہ سیاسی Issue کے نام پر سیاسی حکومت کی طرف سے ایک فیصلہ ہوا ہے اس لئے یہ پہلا ہے۔مذہب میں پہلا نہیں ہے۔آج تک سیاسی حکومتوں کی طرف سے کبھی یہ واقعہ نہیں ہوا تھا کہ ٹارچر اور ظلم کے ذریعہ کسی کو جھوٹ بولنے پر مجبور کرے۔ٹارچر اور ظلم سچ نکلوانے کے لئے استعمال ہوتا رہا ہے۔یہ الگ بات ہے بیچ نکلتا تھا تو ان کو مانتے تھے یا نہیں مانتے تھے۔یہ بالکل الگ بات ہے۔بعض دفعہ پھر بھی نہیں مانتے تھے لیکن مقاصد ہمیشہ ٹارچر کے دنیاوی حکومتوں کی طرف سے جنگوں میں بھی اور ویسے بھی یہ رہے ہیں کہ ظلم کر کے ، ستا کر بیچ نکلوایا جائے گا۔اور یہ پہلا تاریخی واقعہ ہے کہ ایک سیاسی حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ظلم کر کے جھوٹ نکلوایا جائے۔جب تک وہ جھوٹ نہ بولے اس وقت تک ظلم کرتے چلے جاؤ اور سچ نہیں بولنے دینا۔" (ماخوذ از خطاب فرمودہ 30 مرا پریل 1984 ء بر تمام اندان ) خلافت اور نظام جماعت کے خلاف ایک عالمی سازش یہ آرڈینس جماعت کے خلاف اور نظام خلافت کے خلاف ایک نہایت ہی بھیانک سازش اور خطرناک اقدام تھا۔اس کا ذکر کرتے ہوئے حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ نے 28 / دسمبر 1984ء کو بمقام پیرس ( فرانس) خطبہ جمعہ میں فرمایا: جو کچھ پاکستان میں ہورہا ہے یہ کوئی تنہا ایک ملک میں ہونے والا واقعہ نہیں ہے بلکہ ایک عالمی سازش کے نتیجہ میں ہورہا ہے۔اس عالمی سازش میں دنیا کی بڑی طاقتیں بھی ملوث ہیں اور اسلامی ممالک میں سے بعض ملک بھی ملوث ہیں اس لئے ان واقعات کی جڑیں بہت گہری اور بہت دور تک جاتی ہیں اور اللہ تعالیٰ سے تو کوئی چیز مخفی نہیں رہ سکتی۔ہم اگر یہ کہیں کہ فلاں بھی اس میں ذمہ دار ہے اور فلاں بھی اس میں ذمہ دار ہے تو دنیا والے تو کہیں گے تم اسی طرح