سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 410 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 410

410 تھا اور وہ وہیں بجلی کے جھٹکے سے مر گئے۔یہ بجلی سے مرنا بھی اپنے اندر ایک قہری نشان رکھتا ہے۔اس میں کسی انسانی ہاتھ کا دخل نہیں تھا۔اور وہ جلوس جو احمدیوں کے گھر اور ان کی دکانیں جلانے یا ان کو مارنے لوٹنے کے لئے بنایا گیا تھا وہ ان کی تجہیز و تکفین میں مصروف ہو گیا اور ان کے جنازے کا جلوس بن گیا۔(ماخوذ از خطبه جمع فرموده حضرت خلیفہ مسیح الرابع رحم الله 5 اگست 1988 ، خطبات طاہر جلد 7) حمدالله ایک اور شدید معاند احمدیت کے متعلق مجیب الرحمان صاحب ایڈووکیٹ بتاتے ہیں کہ 1984ء میں شریعت کورٹ میں ایک شخص قاضی مجیب الرحمان پشاوری نے جماعت کے خلاف انتہائی شر انگیز بیان دیئے۔یہ وہ صاحب ہیں جنہوں نے ٹیلی ویژن پر جماعت کے خلاف ارتداد کی بنا پر واجب القتل ہونے کا فتویٰ دیا۔اس مباہلہ کے چیلنج کے کچھ عرصے کے بعد اچانک یہ صاحب دل کا دورہ پڑنے سے مر گئے۔حضرت خلیفہ اسح الرائع نے اپنے خطبہ جمعہ فرمودہ 5 را گست 1988ء میں فرمایا : چونکہ یہ وہ صاحب ہیں جن کے متعلق جب مجھے اطلاع ملی تھی اس وقت بھی دل سے ایک لعنت نکلی تھی۔اس لیے میں نہیں جانتا کہ انہوں نے کھلم کھلا مباہلہ کا چیلنج قبول کیا تھا یا نہیں کیا لیکن اس بات میں شک نہیں کہ چونکہ انہوں نے احمدیوں کے قتل کا فتوی دیا تھا۔اس لیے مباہلہ کے چیلنج کے بعد ان کا مرجانا خود یہ بھی ایک نشان ہے اللہ تعالی کی طرف سے۔کوئی اتفاقی واقعہ نہیں ہے۔“ آپ نے مزید فرمایا میں آپ کو بتا دیتا ہوں کہ خدا کی چکی حرکت میں آچکی ہے اور جب خدا کی تقدیر کی چکی حرکت میں آجائے تو کوئی نہیں جو اس کو روک سکے اور کوئی دنیا کی طاقت نہیں ہے کہ جب خدا چاہے کہ کوئی اس چگی میں پیا جائے تو اس چنگی کے عذاب سے بچا سکے۔“ ( خطبات طاہر شائع کردہ طا ہر فاؤنڈیشن ربوہ جلد 7 صفحہ 543542)