سلسلہ احمدیہ — Page 411
411 مولوی محمود احمد میر پوری کی ہلاکت برطانیہ میں سلسلہ عالیہ احمدیہ کے شدید معاند اہلحدیث لیڈر مولانامحمود احمد میر پوری خدا تعالیٰ کی قہری محلی کا نشانہ بن گئے۔مولانا محمود احمد میر پوری کے مرنے پر اخبار حیدر (راولپنڈی ) اپنی 27 را کتوبر 1988ء کی اشاعت میں لکھتا ہے: ریاست جموں و کشمیر کے مایہ ناز سپوت اعظم ، مذہبی سکالر، مدینہ یونیورسٹی کے فارغ التحصیل، عالم دین، اسلامک شریعت کونسل برطانیہ کے سیکرٹری جنرل، مرکزی جمعیت اہلحدیث برطانیہ کے ناظم اعلی، ماہنامہ صراط مستقیم برطانیہ کے ایڈیٹر اور تحریک آزادی کے صف اول کے راہ نما تھے۔مولوی میر پوری تحریر اور تقریر دونوں کے ذریعہ جماعت احمدیہ کی مخالفت پر کمر بستہ تھے اور اپنے رسالہ صراط اور دیگر اخبارات میں اکثر کے خلاف زہر اگلتے رہتے اگلتے رہتے تھے۔چنانچہ 7 مارچ 1985ء کو جماعت کے خلاف ان کا ایک طویل خط روزنامہ جنگ لندن میں شائع ہوا جس میں انہوں نے عوام الناس کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ بانی نے اپنی وفات سے ایک سال قبل ایک اشتہار شائع کیا جس میں انہوں نے مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری کو مباہلہ کا چیلنج دیتے ہوئے لکھا کہ: دم گریں ایسا ہی کذاب اور مفتری ہوں جیسا کہ اکثر اوقات آپ اپنے پرچہ اہلحدیث میں مجھے یاد کرتے ہیں تو میں آپ کی زندگی میں ہی بلاک ہو جاؤں گا۔حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ بانی حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود علیہ السلام نے مباہلہ کا چیلنج 1897ء میں دیا تھا مگر مولوی ثناء اللہ امرتسری دس سال تک اس کے جواب میں خاموش رہے۔لیکن مولانا میر پوری اس تحریر سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ گویا حضرت مرزا صاحب کی وفات مباہلہ کے اس چیلنج کی وجہ سے ہوئی تھی۔اسی طرح مولوی صاحب نے ان تمام تحریرات کو جو مولوی ثناء اللہ امرتسری نے حضرت اقدس بانی کے مباہلہ کے چیلنج کے جواب میں لکھیں اور جن سے واضح طور پر ان کا مباہلہ سے فرار اور خوف ثابت ہوتا ہے پردہ اخفاء میں رکھ کرعوام الناس کو صریح دھوکے میں مبتلا کیا اور جانتے بوجھتے ہوئے یہ موقف پیش کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام