سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 396 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 396

396 کے خون لئے ، عورتوں کو شدید اذیت ناک مصیبتوں قیدوں میں مبتلا رکھا اور ان کی بے عزتیاں کروائی گئیں۔اس اسلامی حکومت میں تم یہ کہہ رہے ہو کہ ہماری چھاتی سے لگو کلمہ پڑھ کر کلمہ پڑھ کر تو ہم چھاتی سے لگنے کے اہل نہیں رہتے، ہم تو جیلوں کے قابل ہو جاتے ہیں لیکن جن کے متعلق تم سمجھتے ہو کہ کوئی مذہبی اختلاف نہیں ہے، ایک ہی کلمہ ہے، ایک ہی زبان ہے ، ان کی چھاتیوں سے کیوں نہیں لگتے ؟ ان کو کیوں اپنی چھاتیوں سے نہیں لگاتے۔ان کو کیوں پاؤں تلے روندتے ہی روند تے چلے جارہے ہو؟“ حضور رحمہ اللہ نے فرمایا: فراعین کے مظالم اور بڑے بڑے بد کردار اور متکبرین کے مظالم کا ذکر کرتے ہوئے قرآن کریم کئی قسم کی آفات کا ذکر کرتا ہے جنہوں نے ایسے لوگوں کو گھیر لیا جوز مینی بھی تھیں اور سماوی بھی تھیں۔کچھ ایسی بھی تھیں جن میں بندوں کا دخل نہیں تھا۔محض وہ آسمان سے نازل ہوئیں یا زمین سے پھوٹیں اور کچھ ایسی بھی تھیں جن میں بندوں کا بھی دخل تھا اور بندوں کو استعمال کیا گیا۔ان کا ذکر کرتے ہوئے قرآن کریم آئندہ کے بارہ میں ایک ایسی پیشگوئی فرماتا ہے جو بعینہ ان حالات پر پوری لگتی ہوئی دکھائی دیتی ہے کہ کہنے والے کی زبان سے قرآن کریم یہ کہلواتا ہے ویا قو مرائی اتحافُ عَلَيْكُمْ يَوْمَ التَّعَادِ (المؤمن (33) کہ اے میری قوم میں تم پر ایک ایسے مذاب سے بھی ڈرتا ہوں جو تمہیں آئے گا جس کی شکل صورت یہ ہوگی کہ اہل وطن ایک دوسرے کو تمہارے خلاف مدد کے لئے پکاریں گے۔القتاد اس کو کہتے ہیں جب شور پڑ جائے اور واویلا شروع ہو جائے اور وہ لوگ جو پنجاب کے دیہات سے خصوصاً واقف ہیں ان کو علم ہے خصوصاً جھنگ وغیرہ کے علاقے میں اگر رات کو کوئی چوری ہو جائے یا کوئی اور آفت پڑ جائے تولوگ، زمیندار چھتوں پر نکل جاتے ہیں اور واویلا شروع کر دیتے ہیں اور سارے ملک کو اپنی مدد کے لئے پکارتے ہیں ظالم کے خلاف۔چنانچہ وہ آواز جہاں پہنچتی ہے پھر وہ آگے آواز چل پڑتی ہے۔پھر اس سے آگے چل پڑتی ہے۔پھر اس سے آگے چل پڑتی ہے۔اور جہاں جہاں وہ آواز پہنچتی ہے لوگ گھروں سے نکل کر جو ان کے ہاتھ میں آتا ہے وہ لے کر نکل کھڑے ہوتے ہیں کہ ایک مظلوم کی مدد کے لئے چلیں۔تو اس کو کہتے ہیں يَوْمَ القتاد۔۔۔خدا کی اس تقدیر