سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 270 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 270

270 اس سے پہلے جو ہم تحریک کرتے رہے ہیں بہت کوشش کرتے رہے لیکن بعض خاص طبقوں نے عملاً اپنے آپ کو وقف زندگی سے مستنی سمجھا اور عملاً جو واقفین سلسلہ کو ملتے رہے وہ زندگی کے ہر طبقے سے نہیں آتے۔بعض بہت صاحب حیثیت لوگوں نے بھی اپنے بچے پیش کئے لیکن بالعموم دنیا کی نظر میں جس طبقے کو بہت زیادہ عزت سے نہیں دیکھا جاتا، درمیانہ درجہ کا غریبانہ جو طبقہ ہے اس میں سے وہ بچے پیش ہوتے رہے۔اس طبقے کے ان واقفین زندگی کا آنا ان واقفین زندگی کی عزت بڑھانے کا موجب ہے۔عزت گرانے کا موجب نہیں۔لیکن دوسرے طبقے سے نہ آنا ان طبقوں کی عزت گرانے کا ضرور موجب ہے۔“ آپ نے فرمایا : یں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ان خاندانوں کی عزتیں باقی نہیں رہیں گی جو بظاہر دنیا میں معزز ہیں اور خدا کے نزدیک وہ خود اپنے آپ کو آئندہ ذلیل کرتے چلے جائیں گے اگر خدا کے حضور انہوں نے اپنے بچے پیش کرنے کا ٹر نہ سیکھا۔اور یہ سنت انبیاء ہے۔انبیاء کے بچوں سے زیادہ معزز اور کوئی بچے دنیا میں نہیں ہو سکتے۔انہوں نے اس عاجزی سے وقف کئے ہیں ، اس طرح منتیں کر کے وقف کئے ہیں، اس طرح گریہ وزاری کے ساتھ دعائیں کرتے ہوئے ، روتے ہوئے وقف کئے ہیں کہ انسان حیران رہ جاتا ہے ان کو دیکھ کر۔پس اگلی صدی کو شدید ضرورت ہے کہ جماعت کے ہر طبقے سے لکھو کھا کی تعداد میں واقفین زندگی آئیں۔ایک صدی کے بعد ہم دراصل خدا کے حضور تحفہ پیش کر رہے ہوں گے لیکن استعمال تو اس صدی کے لوگوں نے کرنا ہے بہر حال یہ تحفہ ہم اس صدی کو دینے والے ہیں۔اس لئے جن کو بھی توفیق ہے وہ اس تحفے کے لئے بھی تیار ہو جائیں۔ہوسکتا ہے اس نیت کی، اس نذر کی برکت سے بعض ایسے خاندان جن میں اولاد