سلسلہ احمدیہ — Page 271
271 نہیں پیدا ہورہی اور ایسے میاں بیوی جو کسی وجہ سے اولاد سے محروم ہیں اللہ تعالی اس قربانی کی روح کو قبول فرماتے ہوئے ان کو بھی اولاد دیدے۔خدا تعالٰی اس سے پہلے یہ کر چکا ہے۔جو انبیاء اولاد کی دعائیں مانگتے ہیں، وقف کی خاطر مانگتے ہیں تو بعض دفعہ بڑھاپے میں بھی تو اولاد ہو جاتی ہے ایسی صورت میں بھی ہو جاتی ہے کہ بیوی بھی بانجھ اور خاوند بھی۔حضرت زکریا علیہ السلام کو دیکھیں اس شان سے دعا کی تھی یہ دعا کرتے ہیں کہ اے خدا! میں تو بوڑھا ہو گیا ہوں ، میرا سر بھڑک اٹھا ہے بڑھاپے کے شعلوں سے اور ہڈیاں تک گل گئیں اور میری بیوی عاقیر ہے۔یعنی اس میں بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت ہی کوئی نہیں ہے۔لیکن میری یہی تمنا ہے کہ تیری راہ میں ایک بچہ پیش کروں اس لئے میری تمنا کو قبول فرما۔۔۔۔اس عظمت کی، اس درد کی دعا تھی کہ اسی وقت، دعا کی حالت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے تجھے بیٹی کی خوشخبری دی۔خود اس کا نام رکھا اور اس میں بھی عظیم الشان خدا کے پیار کا اظہار ہے۔۔۔۔پس اس رنگ میں آپ اگلی صدی میں جو خدا کے حضور تحفے بھیجنے والے ہیں یا بھیج رہے ہیں۔۔۔مجھے خدا نے یہ توجہ دلائی کہ میں آپ کو بتادوں کہ آئندہ دو سال کے اندر یہ عہد کرلیں کہ جس کو بھی جو اولاد نصیب ہوگی وہ خدا کے حضور پیش کر دے گا اور اگر آج کچھ مائیں حاملہ ہیں تو وہ بھی اس تحریک میں اگر پہلے شامل نہیں ہو سکی تھیں تو اب ہو جائیں۔وہ بھی یہ عہد کر لیں لیکن ماں باپ کو مل کر کرنا ہوگا۔دونوں کو اکٹھے فیصلہ کرنا چاہیئے تا کہ اس سلسلے میں پھر پیچھتی بھی پیدا ہو اولاد کی تربیت میں اور بچپن سے ان کی اعلیٰ تربیت کرنا شروع کر دیں اور اعلیٰ تربیت کے ساتھ ان کو بچپن سے ہی اس بات پر آمادہ کرنا شروع کریں کہ تم ایک عظیم مقصد کے لئے ایک عظیم الشان وقت میں پیدا ہوئے ہو جبکہ غلبہ اسلام کی ایک صدی، غلبہ اسلام کی دوسری صدی سے مل رہی تھی۔اس جوڑ پر تمہاری پیدائش ہوئی ہے