سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 3 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 3

3 اخلاص و وفا اور استقامت اور اطاعت کا مظاہر کرتے ہوئے سیدنا حضرت مرزا مسرور احمد خلیفتہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ہاتھ پر اکٹھی ہوئی، یہ واقعہ اپنی ذات میں آپ کی اور آپ کے مقاصد کی کامیابی کا زبر دست ثبوت اور آپ کی دعاؤں کا زندہ اعجاز ہے۔چنانچہ امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ السیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے پہلے خطبہ جمعہ میں اس حقیقت کا ذکر یوں فرمایا: ے جانے والے تو نے اس پیاری جماعت کو جو خوشخبری دی تھی وہ حرف بحرف پوری ہوتی اور یہ جماعت آج پھر بنیان مرصوص کی طرح خلافت کے قیام و استحکام کے لئے کھڑی ہو گئی۔الحمداللہ۔اسی طرح حضرت خلیفہ المسح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے روزنامہ الفضل ربوہ کی خصوصی اشاعت سیدنا طاہر نمبر ( ( مطبوعہ 27 دسمبر 2003 ء) کے لئے اپنے خصوصی پیغام میں فرمایا:۔۔۔حضرت صاحب کی زندگی کا دوسرا عظیم الشان مقصد خلافت احمدیہ کے استحکام 32 اور نظام جماعت کی مضبوطی کی صورت میں دکھائی دیتا ہے۔آپ رحمہ اللہ نے خلافتِ احمدیہ کے ہر پہلو سے استحکام کے لئے انتھک محنت کی ہے۔چنانچہ آپ کی زندگی میں نمایاں شان سے خلافت کا مقام ہر دل میں اجاگر اور قائم ہوا۔آپ نے اپنے دور خلافت کے پہلے خطبہ میں ہی خلافت کو آئندہ ہر قسم کے فتنوں سے محفوظ رہنے کی بشارت دے دی تھی جو بڑی شان سے آپ کی وفات کے وقت پوری ہوئی۔اللہ تعالی نے اپنے خاص فضل اور احسان سے جماعت احمدیہ کو ہر ایک فتنہ سے محفوظ رکھا اور ایک ہاتھ پر سب کو اکٹھا کر دیا۔“ حضرت خلیفة أسبح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی مبارک زندگی کے بے شمار پہلو تھے اور ہر پہلو ہی نہایت حسین ، دلکش اور دلر ہا تھا۔ہزاروں بلکہ لاکھوں افراد سے آپ کا ذاتی تعلق تھا اور کروڑوں دلوں کی آپ دھڑکن تھے۔آپ کی نہایت پیاری اور خوشگوار یادیں سب محنیوں اور مخلصوں کے قلوب و اذہان میں خوشبو بن کر مہک رہی ہیں۔کبھی یہ یادیں حسین تذکروں کی صورت میں لبوں پر آتی ہیں اور کبھی آپ کے حق میں دعائیں بن کر دلوں سے بخارات کی شکل میں اٹھتی ہیں اور اشکوں کا روپ دھار کر