سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 212 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 212

212 تین منزلہ مشن ہاؤس اور ایک خوبصورت مسجد کی تعمیر کی گئی۔2001 ء تک مسجد و مشن ہاؤس کی تعمیر مکمل ہو گئی۔حضور رحمہ اللہ نے مشن ہاؤس کا نام ”دار الفلاح اور مسجد کا نام بیت الاول عطا فرمایا۔اس مسجد کی پہچان دو اونچے منارے ہیں جو ڈور سے نظر آتے ہیں۔اس مسجد کے مستقف حصّہ میں چھ صد افراد نماز ادا کر سکتے ہیں۔تین منزلہ مشن ہاؤس میں مرکزی دفاتر لیکچر ہال، لائبریری، میٹنگ روم کے علاوہ مہمانوں کی رہائش کے لیے بھی انتظام کیا گیا ہے۔اس مسجد بیت الاول کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ کمیونزم کے زوال کے بعد کمیونسٹ بلاک میں تعمیر ہونے والی یہ جماعت احمدیہ کی پہلی مسجد ہے۔2000ء میں مکرم ساجد احمد صاحب نسیم مبلغ کے طور پر البانیا پہنچے جنہوں نے محترم محمد زکریا خان صاحب صدر جماعت احمد یہ البانیا کے ساتھ مل کر مسجد اور مشن ہاؤس کی تعمیر میں خدمات سرانجام دیں۔لیکن ویزہ کی مشکلات کی وجہ سے موصوف کو کچھ عرصہ بعد ہی البانیا سے نکلنا پڑا۔رومانیہ (ROMANIA) 1990ء کی دہائی میں جماعت احمدیہ جرمنی نے داعیان الی اللہ کے وفود کے ذریعہ رومانیہ میں تبلیغ کا کام شروع کیا۔ان کوششوں کو پھل لگا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہاں جماعت کا پودا لگا۔۔اپریل 1994ء میں جرمنی سے پہلا تبلیغی وفد رومانیہ پہنچا۔اس پہلے دورہ کے نتیجے میں 6 بیٹھیں ہوئیں جن میں ایک مسجد کے امام اور ان کی فیملی شامل تھی۔بعد ازاں جرمنی سے ایک دوسرے وفد نے رومانیہ کا دورہ کیا۔جس کے نتیجہ میں مزید 36 بیعتیں حاصل ہوئیں۔ان میں بھی 2 مساجد کے امام بھی شامل تھے۔اس طرح 42 بیعتوں کے ساتھ رومانیہ میں جماعت کا قیام عمل میں آیا۔اسی دور میں لوکل زبان میں منتخب قرآنی آیات اور منتخب احادیث کی طباعت ہو چکی تھی۔