سلسلہ احمدیہ — Page 206
206 دورہ کر چکے تھے اور لیتھوانیا میں ایک سال اور کا ذان ( تاتارستان ) اور رشیا میں کچھ عرصہ خدمت بجا لا چکے تھے مکرم حافظ سعید الرحمن صاحب کو لتھوانیا، مکرم مشہود احمد ظفر صاحب کو کازان ( تاتارستان) چھوڑ کر اور وہاں پر جماعت کے افراد سے متعارف کروانے کے بعد واپس ماسکو آئے۔مکرم مرزا نصیر احمد صاحب کی واپسی کے بعد حضور رحمہ اللہ نے مکرم سید حسن طاہر بخاری صاحب کی تاشقند (ازبکستان) کے لئے اور مکرم را نا خالد احمد صاحب کی ماسکو ( رشیا) کے لئے تقرری فرمائی۔مکرم اخلاق احمد انجم صاحب اور مکرم را نا خالد احمد صاحب نے جماعت کی ماسکو (رشیا) میں رجسٹریشن اور ماسکو مشن ہاؤس کے طور پر ایک فلیٹ خریدنے کے لئے تگ و دو شروع کر دی۔چنانچہ 1993ء میں ماسکو کے سنٹر سے کچھ فاصلے پر Elektrozavodskaya کے علاقہ میں ایک تین کمرے کا بڑا فلیٹ خریدا جو آج تک جماعت احمدیہ ماسکو کے مشن ہاؤس کے طور پر استعمال ہو رہا ہے۔جماعت کی رجسٹریشن کے لئے بھی کافی کوشش کی گئی۔چنانچہ مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے جولائی 1993ء میں جماعت احمد یہ ماسکو کی رجسٹریشن عمل میں آئی۔مکرم اخلاق احمد انجم صاحب جولائی 1993 میں ماسکو سے لندن واپس تشریف لے گئے۔جولائی 1995ء میں پاکستان سے مکرم آغا سکی خان صاحب بطور مبلغ رشیا پہنچے۔چند ماہ ماسکو میں رہنے کے بعد ان کا داخلہ ایک نزد یکی شہر تو یر (TVER) کی ایک یونیورسٹی میں ہو گیا جہاں اور بھی احمدی طلباء پڑھ رہے تھے۔مکرم خواجہ مظفر احمد صاحب بطور مبلغ اکتوبر 1995 ء میں ماسکو پہنچے۔آغاز میں ان کی تقرری بیلاروس کے لئے عمل میں آئی۔پھر 1996ء میں مرکز نے ان کی تقرری ملک قازاخستان کے لئے کر دی جہاں ان کو 2005 ء تک خدمت دین کی توفیق ملی۔1996ء میں مکرم را نا خالد احمد صاحب اور مکرم آغا سکی خان صاحب نے سینٹ پیٹرز برگ (جسے پہلے لینن گراڈ بھی کہا جاتا تھا) کا دورہ کیا۔یہ شہر ماسکو کے بعد رشیا کا دوسرا بڑا شہر ہے۔