سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 202 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 202

202 مکرم اسحاق جمالو و صاحب وہ خوش نصیب ہیں جنہیں 1993ء میں بیعت کر کے ازبکستان کا پہلا احمدی ہونے کا شرف حاصل ہوا۔مکرم اسحاق جمالو و صاحب دو احمدی طلباء مکرم منیر خان صاحب اور مکرم قاسم خان صاحب کے دوست تھے اور ان دونوں کے توسط سے ہی مکرم مرزا نصیر احمد صاحب کے رابطہ میں آئے تھے۔ان کی تبلیغ کے نتیجہ میں مزید پانچ پتیں ہوئیں۔حضور رحمہ اللہ کے ارشاد پر مکرم سید حسن طاہر بخاری صاحب وسط مارچ 1993ء میں ماسکو سے تاشقند پہنچے اور مکرم مرزا نصیر احمد صاحب سے چارج لیا۔آپ 5 جون 1998 ء تک ازبکستان میں خدمات بجالاتے رہے۔9 جولائی 1994ء کو دو مبلغیین مکرم حافظ ظہور احمد مدثر صاحب اور مکرم منصور احمد شاہد صاحب ازبکستان پہنچے۔ضروری قانونی کارروائی کے بعد مکرم حافظ ظہور احمد صاحب کو ستمبر 1994ء میں بخار بھجوایا گیا جہاں ان کا قیام جولائی 1995 ء تک رہا۔اکتوبر 1994ء میں مکرم منصور احمد شاہد صاحب کو سمرقند بھیجا گیا تا کہ وہاں مشن کا آغاز کر سکیں لیکن وہ بیمار ہو جانے کی وجہ سے جلد واپس پاکستان چلے گئے۔ستمبر یا اکتوبر 1995ء میں مکرم نصر اللہ خان ملمی صاحب مرحوم مربی سلسلہ ازبک زبان کی تعلیم کیلئے تاشقند پہنچے۔تاشقند میں زبان کے ابتدائی بنیادی کورس کے بعد اگست 1996ء میں انہیں سمرقند دولت یونیورسٹی میں اعلی تعلیم کے لیے داخل کروایا گیا۔جہاں قریباً چھ ماہ ان کا قیام رہا۔اس ! کے بعد وہ رخصت پر پاکستان گئے اور بیمار ہونے کی وجہ سے واپس تشریف نہ لا سکے۔تین مزید مبلغین مکرم بشارت احمد صاحب، مکرم ملک طاہر حیات صاحب، مکرم ارشد محمود ظفر صاحب 31 اگست 1996ء کو ازبک زبان کی تعلیم کے لئے پہنچے۔مکرم طاہر حیات صاحب کو ابتدائی بنیادی کورس میں تاشقند میں ہی داخلہ دلوایا گیا۔جبکہ دیگر دو مبلغین کو زبان کے بنیادی کورس میں داخلہ کے لئے بخار بھجوایا گیا جہاں ان کا قیام جون 1997 ء تک رہا۔اپریل 2003 یعنی دور خلافت رابعہ کے اختتام تک اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس ملک کے تمام صوبوں میں احمدی مسلمان موجود تھے۔