سلسلہ احمدیہ — Page 176
176 ذریعہ بیعت کی تھی۔موصوف 1950ء کی دہائی میں تلاش معاش کے سلسلے میں تھائی لینڈ پہنچے جہاں ایک مقامی خاتون سے شادی کر کے باقاعدہ رہائش اختیار کر لی۔آپ کیرالہ اور میانمار کے ایک دوست کے ذریعے نظام جماعت سے رابطے میں رہے۔آپ نے 71 سال کی عمر میں تھائی لینڈ میں ہی وفات پائی۔تھائی لینڈ میں اپنے قیام کے دوران آپ نے تبلیغ کا سلسلہ جاری رکھا اور کئی خاندان آپ کے ذریعہ آغوش احمدیت میں آگئے۔ان میں قابل ذکر Mr۔Yusuf ہیں جو مکرم Bava صاحب کے برادر نسبتی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ان کو بھی اخلاص و وفا میں ترقی عطا فرمائی اور انہوں نے نہ صرف لٹریچر کی اشاعت وغیرہ کے لیے خطیر رقم تحفہ دی بلکہ اپنے بیٹے Mr۔Jumma Khan کی زندگی وقف کر دی اور انہیں انڈونیشیامیں تحصیل علم کے لیے بھجوا دیا۔وہاں سے تکمیل تعلیم کے بعد واپس آکر بطور مبلغ سلسلہ خدمات بجالا رہے ہیں۔سو ممالک میں تبلیغی منصوبہ کے تحت یہ ملک انڈونیشیا کے سپرد تھا۔اپریل 1985ء میں عبد الباسط صاحب انڈو نیشین مرکزی مبلغ تھائی لینڈ تشریف لے گئے اور وہاں با قاعدہ جماعت کا قیام عمل میں آیا۔مکرم رفیق چانن صاحب کو تھائی لینڈ جماعت کے پہلے نیشنل صدر ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔2002ء میں تھائی لینڈ کے صوبہ Pathumthani میں ایک مکان کو مشن ہاؤس کے طور پر خرید کیا گیا۔تھائی لینڈ جماعت کا پہلا جلسہ جنوبی تھائی لینڈ کے شہر Ban Bangnai کی مسجد میں 1996ء میں منعقد ہوا۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ کو قرآن مجید کا تھائی زبان میں ترجمہ کروا کر اسے چھپوانے کی سعادت مل چکی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ منتخب آیات ، منتخب احادیث، منتخب تحریرات حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے علاوہ مختلف موضوعات پر لٹریچر تیار کیا گیا ہے اور یہ سلسلہ مسلسل جاری ہے۔اپریل 2003 ء تک 2 / مرکزی مبلغین اور ایک معلم تبلیغ اسلام اور اس ملک میں موجود احمدی مسلمانوں کی تعلیم و تربیت کا فریضہ سرانجام دے رہے تھے۔اس کے ساتھ ساتھ اس ملک میں