سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 133 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 133

133 مختلف زبانوں میں تراجم قرآن کریم کی اشاعت تیرھویں صدی ہجری کا زمانہ وہ زمانہ تھا جس میں قرآن مجید عملاً زمین سے اٹھ چکا تھا۔ایک بڑی تعداد مسلمانوں کی ایسی تھی جو قرآن کریم پڑھنا ہی نہیں جانتی تھی۔قرآن مجید غلافوں میں بند کر کے طاقچوں کی زینت بنا دیا گیا تھا۔جو قرآن پڑھتے تھے ان میں سے اکثریت کا حدیث نبوی کے مطابق یہ حال تھا کہ وہ ان کے حلق سے نیچے ہی نہیں اُترتا تھا اور ان کی زندگیوں میں قرآنی تعلیم کا کوئی اظہار نہیں ہوتا تھا۔بہت سی اعتقادی اور علمی و عملی خرابیاں مسلمانوں میں پیدا ہو چکی تھیں۔اور لا یبقی من الْإِسْلامِ إِلَّا اسْمُهُ وَلَا يَبْقَى مِنَ الْقُرْآنِ إِلَّا رَشمہ کا مضمون ان پر صادق آتا تھا۔علماء کی حالت اور بھی نا گفتہ بہ تھی۔قرآنی آیات کی منسوخی کا باطل عقیدہ ان میں رائج تھا۔ایک سے لے کر سات سو تک آیات منسوخ قرار دے دی گئی تھیں۔بدقسمتی سے آج بھی ایسے علماء پائے جاتے ہیں جو اس عقیدہ پر نہ صرف قائم ہیں بلکہ بڑی ڈھٹائی کے ساتھ اس کا پر چار کرتے ہیں اور نہیں جانتے کہ یہ عقیدہ تو ہین قرآن کے مترادف ہے۔قرآن مجید میں مذکور انبیاء علیہم السلام کے واقعات کو محض قضوں اور کہانیوں کے طور پر پیش کیا جاتا تھا۔ایک طبقہ ایسا تھا جو احادیث کو اور روایات کو قرآن پر مقدم رکھتا تھا۔بعض مسلمانوں نے حال کے جدید علوم اور فلسفہ اور سائنس سے ڈر کر قرآنی آیات کو تاویلات کے شکنجے پر چڑھا دیا تھا اور اس میں اس حد تک دور نکل گئے کہ اللہ تعالیٰ کی وحی و الہام، استجابت دعا، نزول ملائکہ اور اخبار غیبیہ وغیرہ اہم امور کا انکار کر دیا۔غرض یہ وہ زمانہ تھا جب ایمان ثریا پر اُٹھ گیا تھا اور قرآن آسمان پر اٹھایا جا چکا تھا اور اب وہ وقت آچکا تھا کہ وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ میں مذکور پیشگوئی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی