سلسلہ احمدیہ — Page 735
735 بیٹھے بھی۔کچھ لوگ ان میں سے آکے اور بار بار اپنی محبت کا اور خوشی کا اظہار کرتے رہے۔اس لئے مجھے اس ملک سے بڑی توقع پیدا ہوتی ہے کہ چونکہ انہوں نے خدا کے گھر بنانے میں غیر معمولی تعاون کیا ہے اور محبت کا اظہار کیا ہے اس لئے اللہ تعالی اسلام کے لئے ان کے دل کھولے گا اور اس کے آثار بھی ظاہر ہونے شروع ہو گئے ہیں۔اتنی جلدی ، اتنی گہری دلچسپی اسلام میں لینی شروع کر دی ہے انہوں نے کہ جس کے متعلق کسی اور ملک میں مجھے ایسا تجربہ نہیں ہوا۔ہر قسم کے صاحب حیثیت یا عامتہ الناس یعنی ہر قسم کے لوگ مسجد میں ہی دلچسپی نہیں لے رہے بلکہ جماعت احمدیہ کے پیغام میں دلچسپی لے رہے ہیں۔چنانچہ وہاں حکومت کی طرف سے جو نمائندے ہماری دیکھ بھال کے لئے مقرر ہوئے تھے اور وہ کافی با اثر لوگ تھے ان سب نے مجھے سے چلنے سے پہلے درخواست کی کہ ہمیں اسلام میں گہری دلچسپی پیدا ہو گئی ہے اس لئے آپ ہمیں ضرور وقت دیں تا کہ ہم کچھ سوال کر سکیں۔اس دلچسپی کی وجہ کیا تھی ؟ دلچسپی کی وجہ یہ تھی ہمارے ایک ساتھی نے ان سے پوچھا کہ تم متاثر نظر آرہے ہو۔بتاؤ سب سے زیادہ تمہیں کس چیز نے متاثر کیا ہے؟ تو ان کے جو افسر اعلیٰ تھے انہوں نے جواب دیا کہ سب سے زیادہ ہیں آپ کی نماز نے متاثر کیا ہے، آپ کی عبادت نے متاثر کیا ہے اور ایسا گہرا اثر ہمارے دل پر ڈالا ہے۔۔۔۔چنانچہ اس نے درخواست کی کہ میں مسلمان تو نہیں ہوں مگر مجھے نماز پڑھنے کی اجازت دی جائے تو وہ مساجد جو خدا کی خاطر بنائی جاتی ہیں اور وہ عبادت جو خدا کی خاطر ادا کی جاتی ہے اس میں ایک گہرا روحانی اثر ہوا کرتا ہے اور اگر کسی قوم میں روحانیت زندہ ہو تو سب سے زیادہ اس قوم کو اپنے مذہب کی طرف مائل کرنے کا ہی ذریعہ بنتا ہے۔پس میں سمجھتا ہوں کہ گوئٹے مالا کی مسجد بھی چونکہ خالصتہ اللہ بنائی گئی تھی اس لئے وہاں نمازیوں کا انتظام خدا تعالیٰ نے خود فرما دیا ہے اور میں امید رکھتا ہوں کہ جلد ہی وہاں وہ مسجد جو اس لحاظ سے بہت بڑی ہے کہ صرف باہر سے آئے ہوئے دو پاکستانی احمدی وہاں ہیں۔اس کے باوجود مجھے امید ہے کہ جلد ہی انشاء اللہ وہ مسجد بھی نمازیوں سے بھر جائے گی اور چھوٹی ہو جائے گی۔“ ( خطبہ جمعہ فرمودہ 7 جولائی 1989 خطبات طاہر جلد 8 صفحہ 467464)