سلسلہ احمدیہ — Page 595
595 در اصل بعد کی باتیں ہیں، پہلے میں سمجھتا ہوں کہ صرف انسانی قدروں کی بات ہونی چاہئے۔انسانی قدروں کے حوالوں سے بعض دفعہ یہ بات بھی آئے گی کہ ہم ایک ملک میں عیش و عشرت کی زندگی بسر کر رہے ہیں اور ایک اور ملک ہے جہاں فاقے کئے جارہے ہیں۔اگر انسانی قدرمیں زندہ ہوں تو یہ نہیں ہو سکتا۔انسانی قدروں کی راہ میں قومی دیوار میں حائل ہو گئی ہیں، کہیں مذہبی دیواریں حائل ہو جاتی ہیں، کہیں نظریاتی دیوار میں حائل ہو جاتی ہیں۔پس ان سب مصنوعی جھوٹی دیواروں کا ٹوٹنا ضروری ہے اور وہ اندرونی دباؤ سے ٹوٹی چاہئیں۔بیرونی حملے سے نہیں۔اندرونی دباؤ جو انسانیت کے زندہ ہونے سے دلوں سے پیدا ہوگا اور قوم کے اندر جب وہ مجموعی طور پر زیر و بم دکھائے گا اس کے اندر اونچ نیچ ہو گی۔جذبات میں بعض دفعہ کی آتی ہے بعض دفعہ زیادتی ہوتی ہے تو میری مراد یہ ہے کہ جب انسانیت کے سانس چلنے لگیں گے، جب انسانیت کا دل دھڑکنے لگے گا، جب انسانی جذبات میں تموج پیدا ہونے لگے گا تو وہ اندرونی دباؤ ہے جو تعصب کی دیواریں توڑے گا۔ورنہ تعصب کی دیواریں باہر سے نہیں توڑی جاسکتیں۔یہ گہر ا نفسیاتی نکتہ ہے۔تعصب کی دیواروں کو جب باہر سے توڑنے کی کوشش کرو گے تو تعصب بڑھے گا۔پس اندر سے سوچوں کو بدلنا پڑے گا۔نظریات میں تبدیلی پیدا کرنی ہوگی۔پس جماعت احمدیہ کے جتنے فکر رکھنے والے، جتنے دل رکھنے والے صاحب نظر لوگ ہیں، ان سب سے میں یہ درخواست کرتا ہوں کہ اپنی صلاحیتوں کو استعمال کریں اور دراصل ہر احمدی عام گفت و شنید کے ذریعہ بھی اپنے ارد گرد چھوٹے چھوٹے حسین جزیرے قائم کر سکتا ہے۔ہر انسان کے اندر ایک بنیادی مادہ ہونا چاہئے جو پھیلنے کی صلاحیت ہے اور بعض پیغامات جو اپنی ذات میں پھیلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔یہ پیغام بھی ان پیغاموں میں سے ایک ہے۔یہ ایک ایسا پیغام ہے جو فی الحقیقت انسانی دل کی آواز ہے۔انسانی فطرت سے پھوٹا ہوا پیغام ہے۔پس احمدی خواه دانشور ہو یا غیر دانشور ہو، پڑھا لکھا ہو یا ان پڑھ ہوا گر وہ اپنے ماحول میں ایک زندہ پیغام کی بات کرتا ہے تو اس کا پیغام اسی طرح سنا جائے گا جیسے کہا جاتا ہے کہ: دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اُس نے کہا میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے