سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 586 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 586

586 لیکن تیل کی دولت سے مالا مال وہ ممالک جن کے پاس تیل کے نتیجہ میں دولتوں کے پہاڑا کھٹے ہو چکے ہیں، وہ محمد مصطفی میل کی طرف منسوب ہونے کے باوجود آپ کے پیغام کی روح کو بھلا بیٹھے ہیں اور ان کو کبھی خیال نہیں آتا کہ ہمارے ہمسائے میں بعض غریب افریقن ملک کس طرح فاقہ کشی کا شکار ہیں۔سعودی عرب ہے یا عراق ہے یا دوسری مسلمان طاقتیں ہیں، کویت ہو یا بحرین ہو یا شیخڈم کی اور ریاستیں ہوں خدا تعالیٰ نے ایک لمبے عرصہ تک ان کو بڑی بڑی دولتوں کا مالک بنائے رکھا ہے۔اور تو اور سوڈان ان کا ہمسایہ ملک ہے۔وہ مسلمان بھی ہیں لیکن فاقوں کا شکار ہورہے ہیں لیکن مالدار عرب ملکوں میں کوئی حرکت پیدا نہیں ہو رہی۔کسی کو خیال نہیں آیا ل محمد مصطفی ﷺ کے دین کی امتیازی شان کیا ہے۔جب آپ کی سیرت کی باتیں کی جائیں تو خدا کی محبت کے بعد سب سے زیادہ ذکر بنی نوع انسان کی محبت اور غریب کی محبت کا آتا ہے جو سیرت کے روشن ہیولے کی طرح ابھرتی ہے۔یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ حضرت محمد مصطفی مہم کا نام انسان کے ذہن میں آئے اور غریبوں کے ساتھ آپ کی ہمدردی اور ان کے ساتھ تمام عمر شفقت اور رحمت کا سلوک اچانک انسان کی نظر کو خیرہ نہ کر دے۔محمد مصطفی ﷺ کی روشنی میں غریب کی ہمدردی کی روشنی شامل ہے۔ایک موقع پر آنحضرت علی نے فرمایا کہ اگر تم نے مجھے تلاش کرنا ہو تو غریبوں میں تلاش کرنا۔قیامت کے دن میں درویشوں میں ہوں گا ، غریبوں میں ہوں گا۔اور فرمایا ان کا خیال کرنا کیونکہ تمہاری رونقیں اور تمہاری دولتیں غریبوں کی وجہ سے ہیں۔ان ہی کی محنتیں ہیں جو رنگ لاتی ہیں اور پھر وہ تمہاری دولتوں میں تبدیل ہوتی ہیں۔کم سے کم اتنا تو کرو کہ ان سے شفقت اور محبت اور ہمدردی کا سلوک کرو۔پس حضرت محمد ملی بلا شبہ تمام کائنات میں سب سے زیادہ غریبوں کے ہمدرد تھے اور آپ کے نام کے صدقے خدا سے دوستیں پانے کے بعد اور دولتوں کے پہاڑ حاصل کرنے کے بعد اپنے ہمسایہ ملکوں میں غربت کے اتھاہ گڑھوں کی طرف دیکھنا اور دل رحم کے جذبے سے مغلوب نہ ہو جانا یہ کوئی انسانیت نہیں ہے۔اگر یہ مسلمان ممالک دعا کی طرف متوجہ رہتے اور بنی نوع انسان کی ہمدردی کی طرف متوجہ رہتے تو میں یقین رکھتا ہوں کہ آج اس بڑے خوفناک ابتلا میں مبتلا نہ کئے جاتے۔پس ہم اپنی غربت کے باوجود ہر نیکی کے میدان میں ان کے لئے نمونے دکھاتے