سلسلہ احمدیہ — Page 585
585 اس تحریک میں خدا کے فضل سے مخلصین جماعت نے بشاشت قلبی کے ساتھ حصہ لیا اور دل کھول کر عطا یا پیش کئے اور اب بھی کر رہے ہیں۔اگر چہ اس تحریک کا نام کفالت یکصد یتامی تھا لیکن خدا کے فضل سے اس تحریک کے تابع سینکڑوں بیتامی کی کفالت کا انتظام کیا گیا۔اس کے ذریعہ نہ صرف ان کی بنیادی ضرورتوں کو پورا کیا جاتاہے بلکہ زیر تعلیم بچوں اور بچیوں کے تعلیمی اخراجات کو پورا کیا جاتا ہے اور ان کی دینی تربیت کی جاتی ہے۔خلافت احمدیہ کے زیر سر پرستی کفالت بتائی کا یہ نظام ساری دنیا میں پھیلا ہوا ہے اور اس کا دائرہ فیض مسلسل وسعت پذیر ہے۔1989ء میں سلمان رشدی کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں بہت سے بچے یتیم ہو گئے۔حضور رحمہ اللہ نے محبت رسول میں ان کی کفالت کا اعلان فرمایا۔29 جنوری 1999ء کو حضور نے افریقن ممالک خصوصاً سیرالیون کے مسلمان بیتائی اور بیوگان کی خدمت کی عالمی تحریک کی اور فرمایا یتامی کوگھروں میں پالنے کی رسم زندہ کریں۔5 فروری 1999ء کو حضور نے عراق کے یتیموں اور بیواؤں کے لئے خصوصی دعاؤں اور خدمت خلق کی تحریک فرمائی۔افریقہ کے فاقہ زدگان کے لئے تحریک۔افریقہ ریلیف فنڈ جنوری 1991 ء میں افریقہ کے قحط زدہ علاقوں کے افراد کی امداد کے لئے دس ہزار پاؤنڈ کی مالی تحریک فرمائی۔حضور رحمہ اللہ نے خطبہ جمعہ فرمودہ 18 جنوری 1991 میں فرمایا: یں نے جب عالم اسلام کے موجودہ حالات پر غور کیا تو میری توجہ افریقہ کے ان بھوکوں کی طرف مبذول ہوئی جو کئی ملکوں کے وسیع علاقوں میں پھیلے پڑے ہیں۔ایسے سینیا میں بھی، صومالیہ میں بھی، سوڈان میں بھی، چاڈ میں بھی، بہت سے ممالک میں کثرت کے ساتھ انسانیت بھوک سے مررہی ہے اور انسان کو بحیثیت انسان ان کی کوئی فکر نہیں۔اگر کچھ فکر کی ہے تو اہل مغرب نے کی ہے۔ان کے ہاں ایسے پروگرام میں نے دیکھے ہیں جن کے تحت ان بھوکوں، ننگوں، ان یتیموں، ان فاقہ کشوں، ان بیماری میں مبتلا سکتے پنجروں کی تصویر میں دکھائی جاتی ہیں تا کہ بنی نوع انسان کا رحم حرکت میں آئے اور ان کی خاطر لوگ کچھ قربانیاں پیش کریں۔