سلسلہ احمدیہ — Page 37
37 قرآن و سنت سے متصادم ہوں تو قوم ایک بہت بڑے انتشار کا شکار ہوسکتی ہے کیونکہ قرآن وسنت کے خلاف احکام کی اطاعت لازم نہیں۔آغاز میں ہی عدالت کے سامنے یہ بات رکھی گئی کہ یہ ایک نہایت اہم اور تاریخی مقدمہ ہے اور اس مقدمہ کے فیصلہ سے پاکستان کی تاریخ پر بڑے گہرے اور دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔اس مقدمے کے فیصلہ ہی سے وہ راہیں متعین ہوں گی جن پر آگے چل کر اس ملک میں اسلامی قانون کا نظام نافذ ہوگا۔اس مقدمہ کے فیصلہ ہی سے یہ بات ظاہر ہوگی کہ پاکستان میں مذہبی آزادی کا کس حد تک احترام کیا جائے گا اور کس حد تک اسے پامال ہونے کی اجازت دی جائے گی۔اس مقدمہ کے فیصلہ ہی سے یہ بات بھی واضح ہوگی کہ آیا اقتدار وقت کو شریعت اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ وہ آبادی کے کسی حصہ کے مذہبی معاملات میں بلا روک ٹوک داخل اندازی کرے۔اور اس مقدمہ کے فیصلہ پر ہی اس بات کا انحصار ہو گا کہ مذہب، مذہبی اعتقادات اور تعبدی امور میں سیاسی اقتدار وقت کی دخل اندازی شرعاً جائز ہے یا نہیں۔اور اس مقدمہ کے فیصلہ کی روشنی میں ہی اس ملک عزیز کے دوسرے شہری اپنے مذہبی حقوق کے بارے میں اپنی امیدوں اور اپنے اندیشوں کا اس نظر سے جائزہ لیں گے کہ وہ اپنے پروردگار کے حضور عبادت بجالانے میں آزاد ہیں یا نہیں۔زیر بحث درخواست پر اپنے نقطہ نظر کی وضاحت کے لئے 1۔سب سے پہلے از روئے قرآن و سنت اقتدار وقت کی قانون سازی کی حدود اور شریعت کورٹ کے دائرہ اختیار کا جائزہ لیا گیا۔2۔اس کے بعد اس امر پر بحث کی گئی کہ قرآن فہمی کے اصول کیا ہیں اور قرآن وسنت کا مفہوم متعین کرنے کے لئے ہمیں کن اصولوں کی پابندی کرنی چاہئے۔3۔اس کے بعد یہ واضح کرنے کی کوشش کی کہ مذہبی آزادی کے بارہ میں روح اسلام کیا ہے؟ کیونکہ زیر نظر آرڈیننس مذہبی معاملات سے متعلق ہے اور اس کا اس نظر سے جائزہ لیا جانا ضروری ہے کہ آیا وہ مذہبی آزادی کے اسلامی اصولوں سے متصادم تو نہیں؟