سلسلہ احمدیہ — Page 36
36 منافی اور قرآن وسنت سے متصادم ہے۔وفاقی شرعی عدالت کے وضع کردہ طریق کار کے مطابق ضروری تھا کہ ان آیات قرآنی یا کتب کا حوالہ بھی دیا جائے جن پر استدلال قائم کیا گیا ہو۔چنانچہ اس غرض کے لئے ڈیڑھ سو سے زائد حوالہ جات درخواست کے ساتھ شامل کئے گئے اور معین طور پر ہر پابندی کے بارے میں آیات قرآنی اور سنت کے حوالے دیے کہ کون سی پابندی، کون سی آیت یا سفت سے متصادم ہے۔ان حوالوں میں متقدمین ، متأخرین اور عصر حاضر کے علماء کے حوالے شامل تھے۔دوران بحث اصل کتب سے وہ حوالے عدالت میں پیش کئے گئے اور ان پر تفصیل سے بحث کی گئی، فریقین کی بحث کم و بیش چودہ دن جاری رہی۔راقم الحروف ( نصیر احمد قمر ) بھی چودہ دن کی عدالتی کارروائی میں شامل رہا اور اس بات کا شاہد ہے کہ چودہ روز کی کارروائی تائیدات و نصرت الہی کا ایک ناقابل فراموش تجربہ تھا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے خدا تعالی سے خبر پا کر بتایا تھا کہ میرے فرقہ کے لوگ اس قدر علم اور معرفت میں کمال حاصل کریں گے کہ اپنی سچائی کے نور اور اپنے دلائل اور نشانوں کے رُو سے سب کا منہ بند کر دیں گئے۔اس پیشگوئی کو اس چودہ روزہ عدالتی کارروائی میں بھی بڑی شان کے ساتھ بار بار پورا ہوتے دیکھا۔احمدی درخواست گزاروں کی طرف سے شروع ہی میں یہ بات عدالت پر واضح کر دی گئی تھی کہ ہم آئینی ترمیم کو زیر بحث نہیں لانا چاہتے۔یہ عدالت آئینی ترمیم کو کالعدم قرار دینے کی مجاز نہیں ہے۔ہم بھی اس بات کو زیر بحث نہیں لائیں گے۔ہمارا کہنا صرف یہ ہے کہ آئینی ترمیم کے علی الرغم، میرا مذہب کچھ بھی ہو، آرڈینٹس کی عائد کردہ پابندیوں کا جائزہ قرآن وسنت کی روشنی میں لیا جانا چاہئے۔اور جو درخواست داخل کی گئی ہے اسے ہم ایک مذہبی فریضہ کے طور پر ملک و ملت کی خیر خواہی کے جذبہ سے ادا کر رہے ہیں۔کیونکہ جو قانون قرآن وسنت کے منافی ہوا سے ملکی قانون کا حصہ نہیں ہونا چاہئے اور کالعدم قرار دے دینا چاہئے تا کہ قوم کسی معصیت کا شکار ہونے سے اور قرآن وسنت کے خلاف تعزیری قوانین نافذ کرنے کے وبال سے بچ جائے۔اس بات کا بھی اظہار کیا کہ تعزیری قوانین اگر