سلسلہ احمدیہ — Page 505
505 اٹھنا ہے، ہر ملک کے احمدی باشندے کا فرض ہے کہ وہ اپنے ملک کو فتح کرے۔اور یہ کام ہے اگر آپ بلند ارادے اور ہمت کے ساتھ اس کام کو شروع کر دیں اور دعاؤں سے غافل نہ ہوں تو یہ کام آسان ہو جائے گا۔تخطبہ جمعہ فرموده 10 مئی 1985ء بمقام گلاسگو ( سکاٹ لینڈ ) - خطبات طاہر جلد 4 صفحہ 4457425) ایک نشان اور قوم کو انتباہ حضور رحمہ اللہ کے خطبہ جمعہ فرمودہ 31 مئی 1985ء میں ایک دفعہ پھر Friday the 10th کے کشف کا ذکر ہوا۔حضرت خلیفہ اسح الرائع نے اس حوالہ سے فرمایا : آج صبح تہجد کے وقت فون کی گھنٹی بجی تو پتہ چلا کہ کراچی سے فوری ٹیلی فون ہے جس میں یہ بتایا گیا کہ کراچی میں محکمہ موسمیات (جس میں بین الاقوامی ماہرین موسمیات بھی شامل ہیں) کی طرف سے ایک ایسی تنبیہ کی گئی ہے جو عام طور پر پاکستان کے جغرافیائی حالات میں نہیں کی جاتی اور اس لحاظ سے یہ ایک غیر معمولی واقعہ ہے اور وہ یہ کہ پاکستان میں کراچی کے ساحل کی طرف ایک نہایت ہی خوفناک سمندری طوفان بڑی تیزی سے بڑھ رہا ہے جس کے متعلق یہ خیال کیا جاتا ہے کہ جمعہ کے دن صبح دس بجے وہ کراچی کے ساحلی علاقے کو Hit کرے گا۔اس قسم کے سمندری طوفان مشرقی بنگال میں تو آتے رہتے ہیں اور وہ لوگ ان سے واقف بھی ہیں۔ایسے طوفانوں میں لکھوکھا جانیں ضائع اور اربوں کی جائیدادیں تلف ہوتی رہتی ہیں لیکن کراچی کے ساحلی علاقوں کے لئے یہ ایک بالکل اجنبی اور انوکھا واقعہ تھا اس لئے تمام نیوی کو Alert ( الرٹ) کر دیا گیا۔شہری دفاع کے تمام ادارے اور رضا کار اس طرف متوجہ ہوئے۔رات کے پچھلے حصہ اور صبح کے پہلے حصہ میں ساحلی علاقوں سے آبادی کا انخلاء ہوا۔خصوصا ڈیفنس ہاؤسنگ سوسائٹی سے جو بہت دور دور تک پھیلی پڑی ہے اس کے کئی Phases ہیں، اس میں لاکھوں آدمیوں کا انخلاء کروایا گیا۔ڈیفنس کی نصف سے زائد آبادی اپنے مکان خالی کر گئی اور اتنی افراتفری میں یہ واقعہ ہوا کہ کسی کو اپنا سامان لے جانے کی بھی ہوش نہ تھی۔یہ وہ کیفیت تھی جس میں آبادی کا انخلاء عمل میں آیا۔لیکن اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا اور پیشتر اس کے کہ یہ طوفان کراچی میں دور دور تک پھیلے ہوئے ساحلی علاقوں میں