سلسلہ احمدیہ — Page 406
406 چونکہ آپ کا اصرار ہے اور آپ ہی اس کو تماشا بنانا چاہتے تھے۔۔۔ہم اس کو اسی طرح تسلیم کرتے ہیں اور اس مشارکت زمانی کے ساتھ اب وقت مقرر کر لو اور ہم بھی آتے ہیں میدان میں تم بھی میدان میں نکلو۔اب ان کے لئے بھاگنے کی راہ کوئی نہیں تھی۔کیونکہ وہ جو شرائط پیش کر چکے تھے ہم مان گئے لیکن آخری وقت میں ایک چالا کی انہوں نے کرلی ہے۔جنگ اخبار میں جو خبر شائع ہوئی ہے اگر وہ درست ہے تو اس کی رُو سے انہوں نے آخری چالا کی بچنے کے لئے یہ کی ہے کہ ہم چونکہ میں ہی بچے اس لئے ہم اپنے اوپر لعنت نہیں ڈالیں گے بلکہ صرف احمدیوں پر لعنت ڈالیں گے۔یعنی قادیانیوں کے خلاف لعنتیں ڈالیں گے کہ اللہ ان کو ساری دنیا میں برباد کر دے، ذلیل ورسوا کر دے، کچھ نہ ان کا چھوڑ، ان کے گھر بار کو آگیں لگا دے وغیرہ وغیرہ۔یعنی کو سنے کوسیں گے لیکن قرآن کی زبان میں لَعْنَةُ الله عَلَى الْكَاذِہین ( آل عمران 62) نہیں کہیں گے چونکہ ہم تو ہیں ہی بچے۔“ حضور رحمہ اللہ نے فرمایا: عجیب بات ہے کہ اگر سچے ہیں تو کاذبین کی لعنت کس طرح تم پر پڑ جائے گی۔تمہیں یہ یقین کیوں نہیں ہے کہ جب ہم کہیں گے کہ لَعْنَةُ اللهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ تو خدا تمہیں معاف کر دے گا کیونکہ تم جھوٹے نہیں ہو۔دل بتا رہے ہیں کہ جھوٹے ہیں اور اس لئے اس سے فرار کی یہ راہ اختیار کی ہے کہ ہم تو کہتے ہیں کہ ہم نے تو اپنے اوپر لعنت ہی نہیں ڈالی تھی کہ اے خدا! یہ کیا بات ہے۔ہم نے تو قادیانیوں پر لعنت ڈالی تھی۔ان پر لعنت ڈال۔ہم پر نہ ڈالنا ہمیں جھوٹ کی اجازت ہے۔دوسرا ایک عجیب تمسخر ہے مسلہلہ سے بلکہ ظلم ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی شدید تک ہے اور خدا کی شدید گستاخی ہے۔اللہ تعالیٰ نے جب حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ طیہ و آلہ وسلم کو فرمایا کہ اپنے مقابل جھوٹوں کے پاس جاؤ اور ان کو یہ کہو کہ لَعْنَةُ الله عَلَى الْكَاذِبِین میں بھی کہتا ہوں تم بھی کہوتا کہ جو شخص جھوٹا ہے خدا اس پر لعنت ڈالے۔کیا نعوذ باللہ من ذالک حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی صداقت کا یقین نہیں تھا؟ اس یقین کے با وجود کیا خدا کوعلم نہیں تھا کہ کائنات میں سب سے بڑا سچا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔