سلسلہ احمدیہ — Page 356
356 ترجمہ کی ترتیب اعلیٰ ہے۔نیز Cross Reference بھی دیئے گئے ہیں اور مختلف مضامین پر مشتمل انڈیکس بھی موجود ہے۔بلاشبہ یہ ترتیب ایک مکمل ترتیب ہے جس سے قارئین کو بہت سی سہولیات اور فوائد ملتے ہیں اور جس کے پاس بھی آنکھ ہو وہ اسے دیکھ سکتا ہے۔“ ایک دینی ادارہ کے مسلمان طالب علم مالن چئے، نے مکرم محمد عثمان نچو صاحب کو ایک خط میں تحریر مجھے تو یہ خیال بھی نہ تھا کہ بہت سی ایسی قیمتی کتب کا تحفہ آپ مجھے ارسال کریں گے جس کی اپنے قلب و ذہن کو سیراب کرنے کے لئے شب و روز مجھے تلاش تھی۔چنانچہ جب مجھے یہ ملا تو میں ایک اچانک خوشی سے سرشار ہو کر الحمد للہ کہنے لگا، اور مجھے احساس ہوا گویا صحرانوردی میں کوئی لالہ زار مل جائے یا کسی پہاڑ کی چوٹی تک پہنچنے کے لئے نوکیلے پتھروں میں سے کوئی صاف راستہ مل جائے ، پس میرا دل خوشی سے بلیوں اچھلنے لگا۔ہر ایک دل جو اخلاص سے خالی ہو وہ سچائی کو قبول نہیں کر سکتا اور ہر وہ آنکھ جس میں وسعت نظر نہ ہو وہ پس پردہ صداقت سے نا آشنا رہتی ہے۔آخر سچائی کی روشنی نے میرے دماغ کا در وا کر دیا ہے اور اب مجھے تن تنہا یخ بستہ موسم میں کھڑے ہوتے ہوئے بھی خوشگوار گرمی کا احساس ہونے لگا ہے۔آپ کے لٹریچر سے مجھے صداقت کی وہ معرفت حاصل ہوتی ہے جس سے میرا باطن احساس کمتری اور گمراہی کی پریشانی سے پاک ہو رہا ہے گویا مجھے ایک، ایسا سورج مل گیا ہے جس کے نور نے مجھے یہ فراست عطا کی ہے جس سے مجھے اپنے مقصد حیات یعنی صراط مستقیم سے بھٹکانے والے بتوں کا علم ہو جائے گا۔اب میں تنہا نہیں ہوں بلکہ آپ میرے بزرگ ہیں، دوست اور شناسا ہیں، بھائی ہیں جو مشکل مراحل پر میری راہنمائی کریں گے۔جو کتاب آپ نے مجھے ارسال کی ہے یہ وہ نور صداقت ہے جو چین میں