سلسلہ احمدیہ — Page 308
308 جس رفتار سے ہندوستان کی معمولی آبادی میں اضافہ ہورہا ہے اس سے چار پانچ گنا زیادہ تیز رفتار سے عیسائیت اس ملک میں پھیل رہی ہے اور اس وقت ہندوستانی عیسائیوں کی تعداد دس لاکھ کے قریب پہنچ چکی ہے۔پھر جو عیسائی ہوتے تھے انہیں اچھی اچھی ملازمتیں مل جاتی تھیں۔مثلاً عبد اللہ آتھم اور پادری صفدر علی ڈپٹی بن گئے۔پادری عماد الدین کو بھی یہ عہدہ پیش کیا گیا مگر اس نے پادری رہنا بہتر خیال کیا۔غرض سارے پنجاب میں پادریوں کا ایک جال پھیلایا گیا۔عیسائی مناد شہروں، قصبات اور دیہاتوں میں علانیہ عیسائیت کی تبلیغ کرتے۔ہسپتالوں میں باقاعدہ مبلغ مقرر تھے۔لیڈی ڈاکٹر ز علاج کے ذریعہ عیسائیت کا اثر لوگوں کے گھروں تک پہنچاتی تھیں۔مذہبی معتقدات کے لحاظ سے مسلمانوں کو مرتد بنانے کے لیے پادریوں کے پاس سب سے بڑا حریہ یہ تھا کہ یسوع مسیح آسمان پر زندہ موجود ہے اور وہی ہے جو دنیا کی رستگاری اور عالم کی نجات کے لیے آخری زمانہ میں جلالی شان کے ساتھ نازل ہوگا۔اور تمام انبیاء بشمول محمد( ما ) وفات پاچکے ہیں اور وہ کسی کی مدد نہیں کر سکتے۔پس زندہ کو چھوڑ کر مردوں کے پیچھے لگنا عقلمندی نہیں ہے۔اور یہی عقیدہ مسیح ناصری علیہ السلام کے متعلق مسلمانوں کا تھا۔وہ انہیں خالق طیور، نجی اموات، غیب کی باتیں بتانے والے اور غیر طبعی زندگی پانے والے، آسمان پر الان كما كان کا مصداق یقین کرتے تھے اور آسمان سے اُس کے جلالی نزول کے قائل اور منتظر تھے۔وہ اُسی کو اپنی تمام مرضوں کا مداوا اور اپنی دینی و دنیاوی ترقیات کو اس کے نزول کے ساتھ وابستہ سمجھتے تھے۔اسی وجہ سے بعض سمجھ دار تعلیم یافتہ مسلمان لیڈر بھی یہ خیال کرنے لگے تھے کہ دنیا کا آئندہ مذہب عیسائیت ہوگا۔اور اسلام کی نشاۃ ثانیہ سے کلیہ مایوس ہو چکے تھے۔ان حالات میں اللہ تعالی نے ملت اسلامیہ کے حال پر رحم فرما کر حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام پر بذریعہ الہام منکشف کیا کہ مسیح ابن مریم رسول اللہ فوت ہو چکا ہے اور اس کے رنگ میں ہو کر وعدہ کے موافق تو آیا ہے۔وَكَانَ وَعْدُ اللهِ مَفْعُولًا۔چنانچہ آپ نے 1890ء کے آخر میں