سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 307 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 307

307 جائے کہ مسیح کے آسمان پر جانے کا خیال لغو اور جھوٹ اور افتراء ہے۔“ تریاق القلوب روحانی خزائن جلد نمبر 15 صفحہ 145) الغرض یہ کتاب ایک نہایت اہم مسئلہ کی علمی تحقیق پر مشتمل ہے جو دنیا کی تین بڑی اقوام سے تعلق رکھتا ہے یعنی یہودی، عیسائی اور مسلمان۔1994ء میں اس انقلاب انگیز تصنیف پر سوسال کا عرصہ پورا ہونا تھا۔چنانچہ حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ کی ہدایت پر اردو زبان کے علاوہ جن 12 زبانوں میں اس کے تراجم کی اشاعت ہوئی وہ حسب ذیل ہیں۔البانین۔عربی۔بلغارین۔انگریزی۔فریج۔جرمن۔انڈو نیشین۔سواحیلی۔نارو سکین۔پرتگیزی۔رشین سپینش۔فتح اسلام انیسویں صدی کے آخری عشروں میں ہندوستان میں عیسائی مشن بہت فعال تھا۔یہ وہ زمانہ تھا جبکہ سارے ہندوستان میں عیسائیوں کے مضبوط تبلیغی مشن قائم ہو چکے تھے۔مشن سکول اور کالج جگہ جگہ کھولے اور کروڑوں کی تعداد میں کتب پمفلٹ اور اشتہارات مفت تقسیم کیے جارہے تھے۔اور ہر جگہ رَبُّنَا المَسِیح ربنا المسیح کی صدا بلند ہورہی تھی اور ہمیشہ کے لیے زندہ اور تقدس کے تخت پر بیٹھنے والا جو آخری زمانہ میں آسمان سے جلالی نزول فرما کر قوموں کی بادشاہت کرے گا جس کے سامنے تمام قومیں اپنا سر جھکا ئیں گی یسوع مسیح کو قرار دیا جارہا تھا اور انگریزی حکومت کے اعلیٰ ارکان بھی تبلیغ عیسائیت کے پشت پناہ بن رہے تھے اور پادریوں کی مساعی کو بنظر استحسان دیکھتے اور عیسائیت کی رفتار ترقی کو دیکھ کر یہ خیال کر رہے تھے کہ اب سارا ہندوستان چند سالوں میں عیسائیت کی آغوش میں آگرے گا۔چنانچہ پنجاب کے ایک لیفٹننٹ گورنر چارلس ایچی سن جنہوں نے 21 نومبر 1883ء کو مشن چرچ بٹالہ کا سنگ بنیاد رکھا تھا، 1888ء میں عیسائی مشنریوں کے ایک اجلاس کو جس کے صدر اس علاقہ کے بشپ تھے۔خطاب کرتے ہوئے کہا: