سلسلہ احمدیہ — Page 8
8 مرکزی مجلس شوری کے علاوہ کسی بھی ملک کی مقامی طور پر پہلی مجلس شوری کے انعقاد کا اعزاز جماعت احمد یہ ناروے کو حاصل ہوا۔جماعت احمد یہ ناروے کی تاریخ کی یہ پہلی مجلس شوری مؤرخہ 6 اگست 1982ء بروز جمعتہ المبارک (بیت النور ) اوسلو میں منعقد ہوئی جس میں جماعت احمدیہ ناروے اور اس کی ذیلی تنظیموں مجلس انصاراللہ اور اس خدام الاحمدیہ کی مجلس عاملہ کے مبران اور دیگر صائب الرائے افراد نے شرکت کی۔اس موقع پر حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ نے فرمایا : یہ ایک تاریخی دن ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ یورپ میں بھی یہ دن ایک نئے باب کا اضافہ کرنے والا دن ہے۔کیونکہ میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہر ملک میں آئندہ انشاء اللہ تعالیٰ ہر سال ایک مجلس شوری منعقد ہوا کرے گی۔“ آپ نے یہ بھی فرمایا: مجلس شوری کا یہ تصور کہ گویا صرف ایک مرکزی مجلس شوریٰ ہو، اگر کسی کے ذہن میں ہے تو غلط تصور ہے۔شوریٰ کا آغاز وہاں سے ہوا تھا اور کچھ عرصے تک مجلس شوری کے جملہ فرائض مجلس شوری مرکز یہ ہی ادا کرتی رہی ہے۔لیکن جب قومیں ترقی کرتی ہیں اور پھیلتی ہیں تو ان کی تربیت کے لئے شوریٰ کے نظام کو وسیع تر کرنا پڑتا ہے۔“ ملکی شوری کی اہمیت آپ نے ملکی شوری کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے فرمایا: در پورٹ مجلس شوری ناروے ( غیر مطبور ) صفحہ (1) گر شوری کی تربیت مختلف ملکوں کو نہ دی گئی تو خطرہ یہ ہے کہ جب احمدیت اجتماعیت اختیار کرے گی اور بڑی وسیع پیمانے پر پھیل جائے گی تو دنیا کے اکثر لوگ شوری کے تصور سے نابلد ہوں گے۔اور وہ ڈیموکریسی کو ہی شوری سمجھنے لگ جائیں گے۔ایک بالکل غلط طرز پر بعض ملکوں کی سوچ چلی جائے گی۔اس احتمال کے فقدان کو پیش نظر رکھتے ہوئے میں نے یہ فیصلہ کیا ہے جس کا آج اعلان کر رہا ہوں کہ تمام ملکوں میں آئندہ انشاء اللہ سال میں ایک مجلس شوری“ ہوا کرے گی۔اور اس مجلس شوری کا انتخاب خلیفہ وقت کی اجازت سے اس ملک کا امیر یا مبلغ انچارج ، اگر امیر ہوتو وہ کرے گا۔اور مشورے