سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 7 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 7

7 مجلس شوری اللہ تعالیٰ کے حکم شَاوِرُهُمْ فِي الْأَمْرِ (آل عمران (160) اور أَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُمْ (الشورى:30) کی قرآنی تعلیم کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے خلفائے کرام ہمیشہ ہی تمام اہم امور میں مشاورت فرماتے رہے ہیں۔تاہم حضرت خلیفتہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے 1922ء میں جماعت میں شوریٰ کو با قاعدہ ایک انسٹیٹیوشن کی شکل دی اور مرکزی طور پر ہر سال ایک مجلس شوریٰ کا با قاعدہ انعقاد بھی شروع فرمایا۔اور اس کے بعد سے ہر سال سوائے اس کے کہ کسی سال نا گزیر وجوہات کی بنا پر ناغہ ہو گیا ہو ی مجلس شوری مسلسل منعقد ہورہی ہے۔ملکی مجلس شوری کے نظام کا قیام حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ نے شوری جیسے اہم اور مقدس ادارہ کے استحکام کی طرف آغا ز خلافت سے ہی خصوصی توجہ فرمائی اور دنیا بھر میں بڑی تیزی کے ساتھ مختلف ممالک میں پھیلی ہوئی جماعتوں کی تربیت کی خاطر اور اس غرض سے کہ جماعتی مسائل میں براہ راست تمام ملکوں کے احمدی ذاتی طور پر involve ہو جائیں یہ فیصلہ فرمایا کہ تمام ملکوں میں ایک ملکی مجلس شوری بھی ہوا کرے۔کیونکہ پھیلتی ہوئی جماعتیں ساری دنیا میں تعداد کے لحاظ سے اتنی بڑھ چکی ہیں کہ ان کے نمائندوں کو مرکز میں مجلس شوریٰ میں شامل ہونے کی توفیق ملنا مشکل ہے۔چنانچہ آپ نے اپنے سب سے پہلے دورہ یورپ 1982ء میں ناروے، سویڈن، ڈنمارک، جرمنی، سوئٹزرلینڈ، ہالینڈ ، سپین اور انگلستان میں اپنی موجودگی میں ان ممالک کی شوری کے الگ الگ اجلاسات کروا کر شوری کی اہمیت، اس کے طریق کار، قواعد وضوابط اور روایات وغیرہ کے بارہ میں بڑی تفصیل سے ہدایات ارشاد فرمائیں اور ان ممالک میں شوری کے نظام کو مضبوط بنیادوں پر استوار فرمایا۔