سلسلہ احمدیہ — Page 288
288 سے آگے اٹھتے ہیں اور تمام وہ امور جو دین کے لئے سر انجام دینے کی توفیق ملتی ہے ان پر جب آپ آفاقی نظر ڈالتے ہیں تو آپ کو جابجا خدا تعالیٰ کی تقدیر کار فرما دکھائی دیتی ہے۔نظر آنے لگتی ہے کہ کس طرح کس موقع پر خدا کی تقدیر نے کیا سامان پیدا فرمایا۔۔۔؟ تقدیر یہ مہرے چلا رہی تھی اور اس تھوڑے سے عرصے میں حیرت انگیز طور پر کثرت کے ساتھ مشرقی یورپ کی زبانوں میں اسلام کا لٹریچر تیار کرنے کی توفیق ملی۔روسی زبان میں لٹریچر تیار کرنے کی توفیق ملی، چینی زبان میں لٹریچر تیار کرنے کی توفیق ملی اور ہم انتظار میں بیٹھے رہے کہ اب دیکھیں خدا آئندہ کیا سامان کرتا ہے؟ بہت بڑی بڑی دیواریں رستے میں حائل تھیں لیکن اب دیکھیں کہ آپ کے دیکھتے دیکھتے وہ دیواریں ٹوٹنی شروع ہو گئیں۔جب دیوار برلن گر رہی تھی اور ٹیلی ویژن پر لوگ دیکھ رہے تھے اور عجیب عجیب رنگ میں اپنی خوشیوں کے اظہار کر رہے تھے اور جوش کا اظہار کر رہے تھے تو میرا دل اللہ کی حمد کے ترانے گارہا تھا۔وہ سمجھتے تھے کہ ان کی خاطر دیوار برلن گرائی جارہی ہے۔میں جانتا تھا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر دیوار برلن گرائی جارہی ہے اور اب اسلام کے ان ملکوں میں پھیلنے کے دن آرہے ہیں اور وہ تیاریاں جو خدا کی تقدیر نے ہم سے کروائی تھیں وہ رائیگاں نہیں جائیں گی۔ان کو خدا تعالیٰ نے اس رنگ میں مکمل فرمایا اور ایسے وقت میں مکمل فرمایا جب کہ دوسری طرف سے روکیں توڑنے کے سامان بھی تیار تھے اور جونہی ہم یہاں خدمت کے لئے تیار ہوئے خدا تعالیٰ نے وہ حائل روکیں ساری دُور کرنی شروع کر دیں۔یہ وہ زندہ خدا ہے جو احمدیت کا خدا ہے جس نے ہمیشہ احمدیت کی پشت پناہی فرمائی ہے اور ہر قدم پر ہماری مدد فرماتی ہے۔کون دُنیا کی طاقت ہے جو اس خدا کی محبت ہمارے دل سے نوچ کر پھینک سکتی ہے؟ کون ہے جو ہمارے دل میں شکوک پیدا کر سکتا ہے؟ ہم خدا کی اس تقدیر کو روزمرہ ہمیشہ ظاہر ہوتے دیکھتے ہیں۔مختلف صورتوں میں ظاہر ہوتے دیکھتے ہیں۔کبھی کبھی بکھری ہوئی مختلف صورتوں میں ظاہر دیکھتے ہیں اور کبھی کبھی ان صورتوں کا اجتماع ہوتا دیکھتے ہیں اور ایک نہایت ہی خوبصورت منظم شکل ان تدبیروں کی نظر آتی ہے اور اس وقت معلوم ہوتا ہے کہ ہم جب سوئے ہوئے ہوتے ہیں، جب ہم بعض باتوں سے غافل ہوتے ہیں، تو ہمارا