سلسلہ احمدیہ — Page 276
276 کے ساتھ ان کے لئے دعائیں کریں کہ جو آپ کی کوتاہیاں ہیں ان کو نظر انداز فرماتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے فرشتے ان کے دلوں میں خدا تعالیٰ کی محبت بھرنا شروع کر دیں۔مائیں ان کو دودھ میں اللہ کی محبت پلائیں اور بچپن سے یہ مختلف دکھائی دینے لگیں۔بہ جو نو مضمون ہے مختلف دکھائی دینے والا اس کا تعلق بھی ایک بچے کے وقف سے ہے۔حضرت مریم کو ان کی والدہ نے وقف فرمایا اور خدا کے سپرد کر دیا کہ اب تو جان، جو چاہیے کر میں نے تو وقف کرنا تھا۔لڑکا یالڑ کی عطا کرنا تیرا کام تھا۔جو کچھ بھی ہے میں نے تیرے حضور پیش کر دیا اور قرآن کریم فرماتا ہے بچپن سے ہی ان کے حالات دوسرے بچوں سے مختلف تھے۔اُن کے اندر بعض امتیازی شانیں تھیں جن کو حضرت ذکریا نے محسوس فرمایا اور ان امتیازی نشانات کو دیکھ کر ان کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی اور جو دعا بن گئی کہ اے خدا مجھے بھی تو ایسی اولاد عطا فرما۔جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت بیٹی کی خوشخبری دی۔پھر اسی ماں کے پیٹ سے جو بچہ پیدا ہوا اس کے بھی بچپن میں آثار دوسرے بچوں سے مختلف تھے۔فِي الْمَهْدِوَ کُھلا۔( آل عمران : 47 ) وہ گفتگو کرتا تھا ، خدائی تگو کرتا تھا، اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا تھا۔تو ان دونوں مثالوں میں ہمارے لئے ایک سبق ہے کہ بچپن ہی سے وقف کرنے والی اولاد کے دل میں اللہ تعالیٰ کی غیر معمولی محبت پیدا کرنی چاہئے اور صرف کوشش سے مطمئن نہیں ہونا چاہئے۔جب تک وہ آثار ان میں ظاہر نہ ہو جائیں اُس وقت تک اطمینان نہیں پکڑنا چاہئے۔پس اب ان کی تربیت کا جو دور ہے اس میں اللہ تعالیٰ ماں باپ کو زندگی عطا فرمائے کہ وہ خود محبت کے ساتھ ان وقف شدہ بچوں کی تربیت کرسکیں۔اس تربیت کے دور میں دعائیں بھی آپ کو کرنی ہوں گی، ہر قسم کے ذرائع کو استعمال میں لانا ہوگا یہاں تک کہ آپ کی آنکھیں دن بدن اپنی اولاد کی طرف سے زیادہ ٹھنڈی ہوتی چلی جائیں گی۔۔۔۔جو بچے بچپن سے ہی خدا تعالیٰ سے محبت کرنے لگ جائیں ان کے لئے اعجازی نشان عطا