سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 109 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 109

109 حضرت خلیفہ مسیح الرابع رحمہ اللہ نے جلسہ سالانہ 1989ء کے موقع پر اپنے خطاب میں فرمایا: چونکہ پاکستان میں مساجد پر اور معاہد پر حملہ تھا اس لئے میں نے جماعت کو سمجھایا کہ ہم ظلم کا جواب ظلم سے تو نہیں دے سکتے مگر مسابقت کی روح کے ساتھ ہم یہ جواب دیں گے۔قرآن کریم نے ہمیں نیکیوں میں آگے بڑھنے کی تلقین فرمائی ہے۔۔۔اس لئے میں نے جماعت کو تاکید کی کہ وہاں اگر ایک مسجد جلاتے ہیں تو آپ بیسیوں مسجدیں باہر کی دنیا میں بنا دیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت نے اس آواز پر لٹھیک کہتے ہوئے عظیم الشان خدمت سر انجام دینے کی توفیق پائی۔جس سال لندن آیا ہوں اس سال مساجد کی تعمیر کی تعداد دنیا بھر میں 32 تھی اور باقی چار سالوں میں خدا کے فضل سے جماعت کو 660 نئی مسجدیں بنانے کی توفیق ملی ہے۔۔۔۔اس کے علاوہ خدا تعالیٰ نے اپنے فضل کے ساتھ بعض بنی بنائی مسجدیں بھی ہمیں عطا کی ہیں اور جوں جوں جماعتوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے ان جماعتوں کے ساتھ بہت سے دیہات کی بنی بنائی مسجد میں پوری کی پوری جماعت احمد یہ کومل گئیں۔ان مساجد کی تعداد 201 ہے جو ان کے علاوہ ہے جو میں نے بیان کی ہے۔“ حضرت خلیفة أسبح الرابع رحمہ اللہ نے جلسہ سالانہ 1992ء کے موقع پر مساجد کے قیام کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: پاکستان میں جو سب سے بڑا ظلم توڑا جا رہا ہے وہ عبادت کی راہ میں روکیں ڈالنا ہے جس کو قرآن کریم نے سب سے بڑا ظلم قرار دیا ہے کہ کون ہے اس سے زیادہ ظالم جو خدا کی مساجد میں جا کر عبادت کرنے والوں کو عبادت سے روکتا ہے (البقرہ: 115 )۔تو پاکستان میں جتنے بھی مظالم ہیں کچھ بدنی ہیں ان سے بدن کو تکلیف پہنچتی ہے لیکن جو روحانی مظالم ہیں وہ اس سے بہت زیادہ سنگین ہیں اللہ کی نظر میں۔اور ان میں سے ایک یہ ہے کہ ہماری مساجد کو منہدم کیا گیا، ان کی تالہ بندی کی گئی ، مساجد میں جانے سے روکا گیا۔اُس کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ نے اس کثرت کے ساتھ جماعت احمدیہ کو دنیا بھر میں نئی مساجد عطا کی ہیں کہ ان کے ذکر کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور روح سجدہ ریز ہو جاتی ہے جو کتنا محسن خدا ہے۔نئی مساجد جو امسال بنی ہیں وہ