سلسلہ احمدیہ — Page 66
66 قرآن کریم لیا اور ان کے دائیں ہاتھ بیٹھ کر تلاوت کرنے ہی لگا تھا کہ مسجد میں قیامت برپا ہوگئی۔گھٹیالیاں سے پسرور جانے والی سڑک پر ایک سلیٹی رنگ کی کار آ کر ر کی جس میں دو افراد بیٹھے رہے اور باقی دو جنہوں نے چادر میں لیٹی ہوئی تھیں اور منہ پر نقاب ڈالے ہوئے تھے مسجد میں داخل ہوئے۔ادھر درس ختم ہونے کے بعد تین افراد باہر نکلے، سب سے آگے عباس علی صاحب تھے جو ایک مضبوط اور تنومند 35 رسالہ نوجوان تھے۔کلاشنکوفوں سے مسلح دو افراد نے جو مسجد کے صحن سے آگے آکر دروازے تک پہنچ چکے تھے اندر سے نکلنے والے تینوں افراد کو واپس مسجد میں جانے کو کہا۔عباس علی صاحب بڑی جرات اور دلیری سے آگے والے شخص سے الجھ پڑے اور اس کی گن پر ہاتھ ڈال دیا اور ڈپٹ کر کہا تم کون ہو۔تم باہر نکلو۔اسی لمحے دوسرے مسلح شخص نے کلاشنکوف عباس علی صاحب کے جسم سے لگا کر پورا برسٹ ان کے پیٹ میں اتار دیا اور اندر سے آنے والے دوسرے نوجوان کو بٹ مار کر اندر گرا دیا اور تیسرے نو جوان تسنیم عرف مٹھو کو بھی دھکیل دیا۔اس نے اندر آتے ہی دروازہ بند کرنے کی کوشش کی اور ایک دروازے کی کنڈی لگادی مگر دوسرا دروازہ بند نہ کر سکا۔مسجد کے اندر بعض لوگ ابھی بیٹھے تھے اور بعض کھڑے تھے۔مشتاق صاحب نے جو محراب میں بیٹھے تھے جب ایک نوجوان کو اندر کی طرف گرتے دیکھا تو وہ فورا اٹھ کھڑے ہوئے اور اس کے ساتھ ہی مسلح شخص کی کلاشنکوف سے گولیاں چلنے لگیں۔اس نے نیم دائرہ بنا کر ساری مسجد کے اندر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی۔فائرنگ سے نکلنے والا دھواں اور جسموں سے نکلنے والا لہو ہر طرف پھیل گیا۔دونوں مسلح افراد نے چند لمحوں میں اپنی کارروائی ختم کی اور باہر نکل گئے۔باہر نکل کر انہوں نے ہوائی فائر کیا تا کہ کوئی ان کے پیچھے نہ آسکے۔پھر وہ بھاگ کر گاڑی میں بیٹھے اور سلیٹی رنگ کی کار پسرور کی طرف فرار ہوگئی۔مسجد کے اندر لوگ ایک دوسرے پر گرے پڑے تھے۔جن کو زیادہ گولیاں لگی تھیں وہ جان کنی کی کیفیت میں تھے۔حملہ آور کے سامنے مسجد کا ستون اور اس کے پیچھے محراب تھی جس میں مشتاق صاحب کھڑے تھے۔جب ان کو یہ احساس ہوا کہ وہ زندہ سلامت ہیں مگر بہت سے احباب شدید زخمی ہیں تو ان کے سینے سے اللہ اکبر کی آواز بلند ہوئی۔اس کے ساتھ ہی جو لوگ زندہ بچ گئے تھے انہوں نے اللہ اکبر کے فلک شگاف نعرے لگانے شروع کر دیئے۔مشتاق صاحب نے لوٹے میں پانی لا کر زخمیوں