سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 64 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 64

64 قیام کوممکن بناتی اور ان کی جان و مال کو جو بھی خطرات درپیش تھے ان کا سد باب کرتی۔انتظامیہ اس لحاظ سے اپنے فرائض کو سر انجام دینے میں بری طرح سے ناکام رہی۔5۔اس واقعہ کے رونما ہونے کے بعد اس واقعہ کی باقاعدہ تحقیق و تفتیش قطعا عمل میں نہیں لائی گئی اور اس واقعہ سے تعلق رکھنے والی کوئی بھی سرکاری رپورٹ موجود نہیں ہے۔6۔جن لوگوں نے احمدیوں کے جان و مال پر حملہ کیا ان لوگوں کے خلاف کارروائی نہ کرنے کا کوئی جواز نظر نہیں آتا۔“ HRCP Report on Chak Sikandar Arson & Violence against Minorities July) 1989 by Human Rights Commission of Pakistan P۔16-17) یہ سارا ظلم پاکستان کی پنجاب پولیس نے کروایا۔اس وقت وہاں جو آئی جی پولیس تھے وہ وہی تھے جن کی زیر نگرانی 1974ء میں سرگودھا میں احمدیوں کے گھر جلائے گئے تھے۔سارے ضلع کی انتظامیہ اس خبیثانہ اور ظالمانہ فعل میں پوری طرح ملوث اور ذمہ دار تھی۔حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ نے اپنے خطبہ جمعہ فرمودہ 21 جولائی 1989ء میں چک سکندر کے اس واقعہ کا تفصیل سے ذکر کرتے ہوئے فرمایا:۔۔۔احمدی شہداء کا خون ضائع ہونے والا نہیں ہے۔اس کے ایک ایک قطرے کا ظالموں سے حساب لیا جائے گا اور اس کا ایک ایک قطرہ جماعت احمدیہ کے لئے نئی بہاریں لے کر آئے گا اور نئے چمن کھلائے گا اور نئی بستیوں کی آبیاری کرے گا اور تمام دنیا میں جماعت احمدیہ کے نشو نما کے لئے یہ قطره باران رحمت کے قطروں سے بڑھ کر ثابت ہوگا۔" اسی طرح آپ نے فرمایا: ان شہادتوں کا جو اب ہوتی ہیں اور ان واقعات کا مجھے کوئی شبہ نہیں کہ حضرت صاحبزادہ عبد اللطیف صاحب شہید کی شہادت سے ایک گہرا تعلق ہے اور بہت سے! بات کو ثابت کرتے ہیں کہ یہ واقعہ اتفاقی نہیں ہے۔اس لئے افغانستان کے سو سال جس عذاب میں گزرے ہیں اس شہادت کے بعد اس سے پاکستان کو سبق لینا چاہئے۔اگر پاکستان نے اس بات سے سبق نہ لیا تو جہاں تک جماعت احمدیہ کا تعلق ہے اس کی ترقی کو کوئی دنیا کی طاقت روک