سلسلہ احمدیہ — Page 57
57 یادوں کے مسافر ہو تمناؤں کے پیکر بھر دیتے ہو دل، پھر بھی وہی ایک خلا ہے سینے سے لگا لینے کی حسرت نہیں مٹتی پہلو میں بٹھانے کی تڑپ حد سے سوا ہے یا رب یہ گدا تیرے ہی ڈر کا ہے سوالی جو وان ملا تیری ہی چوکھٹ سے ملا ہے گم گشته اسیران که مولا کی خاطر لذت سے فقیر ایک دُعا مانگ رہا ہے جس ترہ میں وہ کھوئے گئے اس راہ پر گدا ایک کشکول لئے چلتا ہے لب پہ یہ صدا ہے خیرات کر اب ان کی رہائی مرے آقا ! کشکول میں بھر دے جو میرے دل میں بھرا ہے میں تجھ سے نہ مانگوں تو نہ مانگوں گا کسی سے میں تیرا ہوں تو میرا خدا، میرا خدا ہے آپ کم و بیش مسلسل دس سال تک اسی کرب میں مبتلا رہے۔بالآخر آپ کی دعائیں اس شان سے بارگاہ رب العزت میں قبولیت کے شرف سے بازیاب ہوئیں کہ وہ ظالم حکمران جوان اسیران کو پھانسی پر لٹکانا چاہتا تھا وہ خود خدا تعالی کی گرفت میں آیا اور ایک فضائی حادثہ میں اس عبرتناک طور پر بلاک ہوا کہ اس کا تمام جسم جل کر خاکستر ہو گیا۔اور ملک میں ایسی تبدیلیاں آئیں کہ پہلے ان اسیران کی موت کی سزا عمر قید میں تبدیل ہوئی اور پھر بالآخر 20 مارچ 1994ء کو ان کی رہائی عمل میں آئی۔بعد میں یہ اسیران راہ مولی لندن آئے اور حضرت خلیفہ امسیح نے انہیں اپنے سینے سے لگایا۔اسیرانِ راہ مولی ساہیوال کی یہ ربائی اور ان کی موت کے خواہاں جنرل ضیاء الحق کی ہلاکت اور رسوائی اس دور کے زبر دست نشانوں میں سے نشان تھے جو خلافت حصہ اسلامیہ احمدیہ کی صداقت اور اس کے موید من اللہ ہونے پر گواہ ہیں۔۔۔۔۔۔احمد یہ مسجد مردان کا انہدام اگست 1986ء کو مردان (پاکستان) میں عید کے دن جب افراد جماعت مرد وزن اور بچے عید پڑھ کر فارغ ہوئے ہی تھے۔پیشتر اس کے کہ ان میں سے کوئی مسجد سے باہر جاتا بعض مسلمان کہلانے والے جنونی ملاں حکومت کی سرپرستی میں، حکومت کے نمائندوں، ان کے افسران اور پولیس کے ساتھ دو تین سو کی تعداد میں مسجد پر حملہ آور ہوئے۔پولیس نے اندر داخل ہو کر یہ اعلان کیا کہ وہ