سلسلہ احمدیہ — Page 756
756 طرف۔بہاؤ ہمیشہ فن سے فنکار کی طرف ہوتا ہے نہ کہ فنکار سے فن کی طرف۔ہم اپنے خدا کو اس کی مخلوق سے ہی پہچانتے ہیں۔یہی ایک راستہ اس تک پہنچنے کا کھلا ہے۔بیک وقت ہم خالق سے پیار اور اس کی مخلوق سے نفرت کیسے کر سکتے ہیں؟ یہ ایک سادہ سا مسئلہ میری سمجھ سے باہر ہے۔میری زندگی کا یہی مقصد ہے اور یہی میں لوگوں کو بتانے کی کوشش کرتا ہوں کہ خدا کے لیے پہلے اپنے آپ کو صحت مند بنا ئیں۔آپ پہلے دیانتدار بنیں اور سادگی اختیار کریں۔اور اپنی زندگی کو سمجھنے کی کوشش کریں۔جب آپ مذہبی اختلافات کے نام پر نفرت کرنی شروع کرتے ہیں تو خدا کو کھو بیٹھتے ہیں۔تو پھر آپ کس کی طرف سے لڑ رہے ہیں ؟ اب تو خدا تمہارے ساتھ نہیں رہا۔جیسے ہی تم نے اس کے نام پر نفرت کا سوچا وہ تمہارا نہ رہا۔پس اپنے جوش کو بھول جائیں کیونکہ اب آپ خدا کے نام پر کھڑے ہونے کے قابل نہیں رہے۔کیونکہ وہ پہلے ہی آپ کے خلاف ہو چکا ہے۔میں آپ کا مزید وقت نہیں لینا چاہتا۔میں اس خطاب کو اب ختم کرنا چاہتا ہوں۔لیکن آخر پر مجھے یہ اجازت دیں کہ میں آپ کو دعوت دوں کہ ہمارے ساتھ مل کر ذہنی بیماریوں کے خلاف، بدصورتیوں کے خلاف اور انسان میں پاگل پن کے خلاف جہاد کریں۔جو بھی ہمارا مذہب ہو اور جس ملک سے بھی ہماری وابستگی ہو ہمیں اپنے آپ کو یہ سکھانا شروع کرنا ہوگا کہ ہم انسانیت، تہذیب اور Common Sense والے ہیں، اور ہمیں اپنے زندگی کے رویہ کو درست کرنا چاہئے۔صرف اور صرف اس کے بعد ہم غریب لوگوں کی صحت کے معیار کو بہتر بنانے کے قابل ہوں گے۔اور صرف اس کے بعد ہم دنیا میں قحط کو شکست دینے کے قابل بنیں گے۔یہ خوراک کی کمی کا مسئلہ نہیں۔یہ انسان میں اخلاق کی کمی کا مسئلہ ہے۔آپ کو علم ہو گا کہ کھرب ہا ڈالرز عراق اور کچھ حد تک کویت میں زندگی کو ختم کرنے پر صرف کیا گیا۔میں نے یہ اندازہ لگایا ہے کہ اگر اس کھرب با ڈالرز میں سے صرف چار ارب ڈالرز براعظم افریقہ، جو پچھلے کئی سالوں سے قحط اور بھوک سے مر رہا ہے، پر خرچ کیا جاتا تو سارے افریقہ سے بھوک کا نام ونشان مٹ جاتا۔امریکہ جو دنیا کا امیر ترین ملک ہے اسے جنگی اخراجات کے لیے ارب ہا ڈالرز، صرف جاپان نے نو (9) ارب ڈالرز دینے کا وعدہ کیا ہے اور کویت اور سعودی عرب اس جنگ کے