سلسلہ احمدیہ — Page 757
757 اخراجات کا بڑا حصہ ادا کریں گے۔اگر انہیں خدا کا خوف ہوتا اور انہوں نے اپنی بے انتہا دولت میں سے ایک معمولی سا حصہ بھی افریقہ کے مصیبت زدہ غریب انسانوں پر خرچ کیا ہوتا تو یہ جنگ شاید نہ ہوتی، کیونکہ جب ہم اللہ تعالیٰ کی مخلوق پر رحم کرنا بھول جاتے ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ ہم پر رحم کرنا ارادة بھول جاتا ہے۔انسان کی مصیبت زدہ حالت کی آخری وجہ ہر جگہ یہی ہے۔اگر انسان صحت مند ہو جائے تو میں دوبارہ کہتا ہوں کہ دنیا میں کوئی مصیبت باقی نہ رہے۔خدا تعالیٰ نے ہمیں پہلے ہی سے اتنی کافی اشیائے ضروری اور پوشیدہ طاقتیں مہیا کر دی ہیں کہ انسان اپنے رہنے کے لیے ہیں وہ جنت بنا سکتا ہے اگر اس کا رویہ جنتی بن جائے۔پس ہم ہمیشہ غریب یا تیسری دنیا کے ملکوں کے غرباء کی صحت کے معیار کو بہتر کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔لیکن میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ یہ ایک بہت بڑا کام ہے اور بہت بڑا چیلنج ہے۔ہم ایک چھوٹی سی جماعت ہیں اور محدود وسائل رکھتے ہیں۔ہم یہ کام صرف اپنے آپ کو مطمئن کرنے کے لیے کرتے ہیں تا جب خدا کے روبرو پیش ہوں تو کم از کم اتنا کہ سکیں کہ آخر ہم نے غرباء کے لیے کچھ تو کیا لیکن یہ مسئلہ ہماری طاقت سے بہت بالا ہے۔تمام بنی نوع انسان آپ، آپ سب مل کر آج انسان میں سے ایک بہتر انسان بنائیں اور مل کر ان سب چیلنجوں کا مقابلہ کریں۔ان چیلنجوں کا مقابلہ صرف سچائی اور عاجزی سے ہوسکتا ہے نہ کہ کسی اور چیز سے۔خدا آپ کو اپنے فضل سے نوازے۔“ گوئٹے مالا میں استقبالیہ تقریب میں حضور کا خطاب اسی شام ہوٹل Camino Real میں مکرم الیاس چوہدری صاحب کی طرف سے حضور رحمہ اللہ کے اعزاز میں ایک عشائیہ دیا گیا جس میں ملک کی مستعد راہم شخصیات کے علاوہ پریس کے نمائندگان بھی موجود تھے۔حضور رحمہ اللہ نے اس موقع پر حاضرین سے انگریزی زبان میں جو خطاب فرمایا اس کے بعض اہم نکات درج ذیل ہیں۔حضور رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جب کوئی کسی ملک میں کچھ عرصہ رہنے کے بعد وہاں سے روانہ ہونے لگتا ہے تو اس ملک یا اس کے لوگوں کے بارہ میں چند اچھی اور خوش کن باتیں کہنا جو اس سفر کی اچھی یادیں پیچھے