سلسلہ احمدیہ — Page 755
755 مطابق وہ شہید اور جنتی تھا۔لیکن عراقی مارنے والے کے خیال اور ایمان کے مطابق اس نے اس کوسیدھا واصل جہنم کیا اور کوئی اسے روک نہ سکا۔اور اسی طرح اس کا برعکس بھی صحیح تھا۔دونوں ایک ہی مذہب سے تعلق رکھتے تھے لیکن ان کی نیتوں نے سب چیزوں کو ایک دوسرے کے لیے بالکل مختلف بنا دیا تھا۔لیکن یہ صرف مسلمانوں کا ہی مسئلہ نہیں بلکہ تمام بنی نوع انسان کا مشترکہ مسئلہ ہے۔جب آپ عیسائی سیاستدانوں کی طرف توجہ کریں تو وہ بھی اسی طرح عمل کرتے نظر آتے ہیں۔اسی طرح عراق و ایران جنگ کے بارہ میں میں آپ کو یاد کراتا ہوں کہ امریکہ مسلسل آٹھ سال عراق کی مکمل پشت پناہی کرتا رہا۔یہی صدام حسین جو بعد میں امریکن نظریے کے مطابق دنیا کا سب سے بڑے شریر آدمی کے طور پر ظاہر ہوا امریکہ کی طرف سے اسے مکمل حمایت حاصل رہی۔مغربی طاقتوں نے ہی اسے خطرناک زہریلی گیس بنائی سکھائی۔ایرانیوں کی ہلاکت کے لیے عراق کو مسلسل نہایت خطرناک اور مہلک ہتھیار مہیا کیے جاتے رہے اور دنیا کے کسی سیاستدان کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔عراق نے ایران کے قریبا تیسرے حصے پر قبضہ کر لیا لیکن کوئی بھی حرکت میں نہ آیا۔لیکن جب عراق کی امریکہ کے ایک دوست ملک کی طرف توجہ پھری تو ہر چیز یکدم مکمل طور پر بدل گئی۔چنانچہ یہی میں کہنا چاہتا ہوں کہ یہ مسلمانوں کا مسئلہ ہے نہ عیسائیوں کا بلکہ یہ تمام بنی نوع انسان کا مسئلہ ہے۔انسان صحت مند نہیں۔آج کے انسان کی صحت میں کچھ بنیادی خرابی ضرور ہے۔مذہب بھی اس معاملہ میں مستی انہیں (جیسا کہ میں پہلے ہی اقرار کر چکا ہوں) ہم بھی عموماً صحت مند نہیں۔مذہبی رہنما ایک دوسرے کے بارے میں غلط رویہ رکھتے ہیں جو کہ اللہ والوں کا نہیں۔غیر اللہ والا رویہ رکھتے ہوئے کوئی اللہ والا کیسے ہو سکتا ہے؟ یہ میری سمجھ سے باہر ہے۔اللہ کے نام پر کوئی دوسروں سے نفرت کی تعلیم کیسے دے سکتا ہے؟ یہ کیسے ممکن ہے کہ خدا کی مخلوق سے نفرت اور خالق سے پیار ہو؟ میں یہ سادہ سا فارمولہ نہیں سمجھ سکتا۔میں تو یہ جانتا ہوں کہ جب میں کسی فن سے پیار کرتا ہوں تو فنکار سے بھی پیار کرتا ہوں۔جب میں موسیقی سے پیار کرتا ہوں تو موسیقار سے بھی پیار کرتا ہوں۔یہاں سے یہ عمل شروع ہوتا ہے۔موسیقار سے دلچسپی لگاؤ اس کی موسیقی سے شروع ہوتا ہے، نہ کہ موسیقار سے موسیقی کی