سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 754 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 754

754 لیڈر شپ سے محروم ہیں۔جب لیڈر شپ انہیں وہ کچھ مہیا نہیں کرتی جس کی انہیں ضرورت ہے تو وہ ایک قسم کی بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں جو ان کی زندگی کے ہر شعبہ پر اثر انداز ہوتی ہے۔لیکن میں اس ذکر کو مختصر کرتے ہوئے صحت کے موضوع کی طرف کو ٹتا ہوں۔میں سمجھتا ہوں کہ ہر آدمی کے لیے پہلے اپنی صحت کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے۔نہ صرف جسمانی صحت بلکہ وہ صحت جس کا میں نے ذکر کیا یعنی ذہنی صحت، اور یہ عمل ہر ایک کی اپنی ہی ذات سے شروع ہوتا ہے۔اگر میں بحیثیت مذہبی رہنما اپنی ہی صحت کا خیال نہیں رکھ سکتا تو دوسرے لوگوں کی صحت کی دیکھ بھال کیسے کر سکتا ہوں۔پس انسانیت کے نام میرا یہ پیغام ہے کہ بس ! اب ہمیں اپنی اندرونی حالت کی طرف متوجہ ہونا چاہیے۔دوسروں پر تنقید کافی ہو چکی وہ ہم ہمیشہ ہی کرتے ہیں۔یہ بہت ہی آسان اور معمولی بات ہے۔لیکن اپنے آپ پر تنقید کرنا بہت ہی زیادہ ضروری ہے۔اپنی زندگی کے نظریات کی اصلاح کرنا، اپنی نیتوں کو جانچنا اور اپنے ہی نفس کے خلاف یہ جنگ ہم میں سے اکثر ہار چکے ہیں۔یہ جنگ نیتوں سے شروع ہوتی ہے۔نیتیں ہمیشہ ہر ایک کے دل اور دماغ سے پھوٹتی ہیں۔لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ وہ جس کی نیت کچھ کرنے کی ہے وہی اس نیت کی حقیقی بنیادی وجوہات سے سب سے کم باخبر ہوتا ہے۔لوگ دوسروں کو بتلاتے ہیں کہ تمہاری نیتیں یہ تھیں اور وہ ایک دوسرے کے ساتھ لڑتے رہتے ہیں کہ نہیں میری نیتیں اچھی تھیں۔لیکن اس رویے میں کوئی بنیادی غلطی ہے۔مثلاً اگر ہم جنگوں کی بات کریں تو ہرلڑنے والا ملک جنگ میں بہترین نیتیں لے کر داخل ہوتا ہے۔اگر ہم انسان کے انسان کے ساتھ جھگڑوں کی بات کریں یا عدالتوں میں جا کر دیکھیں تو یہی نظر آتا ہے کہ ہر انسان اپنے آپ کو معصوم اور بہترین نیتوں کا حامل سمجھتا ہے۔آخر انسان کسی غلطی میں مبتلا ہے۔بہر حال کہیں نہ کہیں خرابی ضرور ہے۔ذرا عراق اور ایران کی جنگ پر غور کریں۔یہ مسلسل آٹھ سال لڑی جاتی رہی۔دونوں ایک دوسرے کو ہرانے کی بہترین کوشش کرتے رہے۔لیکن بہترین کا مطلب ہر ایک کے لیے مختلف تھا۔دوسروں کو ہلاک کرنا اچھا تھا۔لیکن مارا جانا برا تھا۔جب کوئی ایرانی سپاہی کسی عراقی مسلمان کے ہاتھوں مارا جاتا ( اور میں آپ کو یاد کراتا ہوں کہ دونوں مسلمان ہیں) تو ایرانی نقطہ نظر کے