سلسلہ احمدیہ — Page 753
753 ممالک میں بھی خواہ امریکہ ہو یا انگلستان ان میں ایسی پسماندہ جگہیں ہے جہاں انسانیت ادئی ترین حالت میں پائی جاتی ہے۔ہر گلی نظر انداز اور مدد کی محتاج۔پس جب صحت کی بات ہوتی ہے تو اسے غریبوں کا مسئلہ سمجھا جاتا ہے۔لیکن میرے نزدیک امیروں اور لوگوں کے لیڈرز کو بھی صحت کی بہت ضرورت ہے ذہنی صحت ، نہ کہ جسمانی صحت یعنی ان کے فکری انداز کی صحت۔اگر غریب بیمار ہوں تو وہ اپنا دکھ آپ سہ سکتے ہیں۔اور ان کا یہ دکھ انہیں تک محدو درہتا ہے۔لیکن جب بڑے لوگوں کی سوچیں بہار پڑتی ہیں اور جب لوگوں کے لیڈرز مثلا عالی لیڈرز ہمار ہوتے ہیں تو پھر سب دنیا کو بہار کر دیتے ہیں اور زندہ رہنے کے قابل نہیں چھوڑتے۔پس ان کی بحالی صحت کے لیے ان کی مدد نسبتاً زیادہ ضروری ہے۔یہی وجہ ہے کہ میں ان معاملات کو ہمیشہ جوڑتا ہوں۔یہی بات دوسرے تمام انسانی معاملات پر صادق آتی ہے۔مثلاً جب ایک صنعت کار ذہنی بیماری میں مبتلا ہوتا ہے تو ملک کی پوری صنعت متاثر ہوتی ہے۔جب ایک کامیاب تاجر ذہنی بیماری میں مبتلا ہوتا ہے تو ملک کی ساری اقتصادی حالت متاثر ہوتی ہے۔آپ کو بے اعتدالیاں نظر آنے لگتی ہیں۔اور ذہنی صحت ہے کیا چیز؟ یہ توازن کا معاملہ ہے۔تو جب ایک انسان دماغی طور پر توازن کھو بیٹھتا ہے تو وہی بے اعتدالیاں اس کے عملی میدان میں منتقل ہو جاتی ہیں۔اس لیے یہ بہت ضروری ہے کہ ملک کے سیاستدان ذہنی طور پر صحت مند ہوں اور اقتصادی ماہرین ذہنی طور پر صحت مند ہوں اور سب سے بڑھ کر مذہبی رہنماؤں کے لیے لازمی ہے کہ وہ ذہنی لحاظ سے صحت مند ہوں اور ہر لحاظ سے متوازن۔ورنہ وہ نہ صرف اس دنیا کی تباہی کا موجب بنیں گے بلکہ اخروی زندگی کو بھی تباہ و برباد کر دیں گے۔اس لیے ایسے توازن کو کھو بیٹھنے والے مذہبی رہنماؤں کے زیر اثر ہونا دوہرا خطرہ مول لینا ہے۔صحت کے اس وسیع تر نظریہ کے مطابق میں اور تمام عالمگیر جماعت احمد یہ پوری دنیا کی زندگی کے ہر شعبہ میں صحت کی بہتری کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔جسمانی صحت اس کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔لیکن ہم پختہ یقین رکھتے ہیں کہ غریب لوگوں کی جسمانی صحت بہتر نہیں کی جاسکتی جب تک کہ وہ صحت بہتر نہ کی جائے جس کا میں نے ابھی ذکر کیا ہے۔وہ بنیادی طور پر صحت مند