سلسلہ احمدیہ — Page 745
745 مجھے کلب کے ہال میں تقریر کا موقع دیا گیا۔جس کا موضوع یہ تھا کہ اسلام انسان کے بنیادی حقوق کے متعلق کیا رائے رکھتا ہے۔چنانچہ میں نے مختلف پہلوؤں سے اسلام کی بنیادی حقوق کی تعلیم کا ذکر کیا تو اس کے بعد جو دوست ملے ہیں انہوں نے بہت ہی خوشی اور محبت کا اظہار کیا۔بلکہ ایک ممبر پارلیمنٹ Brito صاحب نے یہ اصرار کیا کہ انہیں اس کی کیسٹ مہیا کی جائے کیونکہ وہ اپنے دوستوں میں تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔تو یہ سارے امور ایسے ہیں جن پر ہمارا کچھ بھی اختیار نہیں تھا۔یہ محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہاں کے اونچے طبقے تک اسلام کا صحیح پیغام پہنچانے کے ذریعے خدا تعالیٰ نے مہیا فرمائے اور ان ذریعوں میں سے ہمیں بھی ایک ذریعہ بنا دیا۔۔۔جو Reception جماعت کی طرف سے کل یہاں دی گئی تھی اس Reception میں دنیا کے مختلف ممالک کے اور بعض بہت اہم ممالک کے سفارت کار بھی شریک ہوئے اور ان سے گفت و شنید کے دوران ان کے ممالک میں بھی تبلیغ کے نئے رستے نکلے۔آپ نے فرمایا: دم گر جماعت دعاؤں میں مشغول رہے اور اللہ تعالی سے غیبی امداد طلب کرتی رہے تو ایک تقریب کئی اور تقریبات کے راستے کھول دیتی ہے اور ایک ملک میں مقبولیت کئی اور ملکوں میں مقبولیت کے سامان مہیا کر دیا کرتی ہے۔اس طرح ہمارے دروازے جن نئے میدانوں میں کھلتے ہیں اور بہت سے دروازے اور میدانوں میں کھلتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔صرف یہ ایک فکر لاحق ہوتی ہے کہ نئے تقاضوں کو ہم پورا کرنے کے اہل ثابت ہوں گے یا نہیں اور ان نئی ذمہ داریوں کو کما حقہ ادا کر سکیں گے کہ نہیں۔لیکن چونکہ یہ دروازوں کے کھلنے کا جو سلسلہ جاری ہوا ہے یہ بھی ہماری کوششوں سے نہیں بلکہ محض اللہ کے فضل کے ساتھ جاری ہوا ہے اس لیے میں امید رکھتا ہوں کہ وہی فضل ہمارا حامی و مددگار ہو گا اور ان نئے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے ہمیں نئی جوان منتیں عطا کرے گا، نئے حوصلے بخشے گا، نیا استحکام جماعت کو عطا کرے گا اور جو جونئی زمینیں ہم اسلام کے لیے فتح کریں گے ساتھ ساتھ ان کو مستحکم کرتے چلے جائیں گے۔اللہ تعالی ہمیں اس کی توفیق بخشے۔