سلسلہ احمدیہ — Page 729
729 یہ کینیڈین مہر بانیاں، یہ فراخ دلی اور خوش ولی، کینیڈین انسان دوستی اور سب۔بڑھ کر کینیڈین خاکساری جو مجھ جیسے بے خانماں رہنما کے لئے پیش کی گئیں ان سب کے لئے میر اول شکر کے جذبات سے لبریز ہے۔میں تو اس وقت وہ لیڈر ہوں جسے اپنے ہی وطن میں گھر بھی نصیب نہیں۔مگر میرا گھر تو ہر جگہ ہے۔خصوصیت سے آج رات آپ کا سلوک دیکھ کر مجھے یقین ہو گیا ہے کہ کینیڈا میرا وطن ثانی ہے۔“ نیز فرمایا: میری دعا ہے کہ کینیڈ اساری دنیا ہو جائے اور ساری دنیا کینیڈا ہو جائے۔“ حضور کے ان پر خلوص جذبات کے اظہار سے حاضرین پر ایک عجیب وجد کی سی کیفیت طاری تھی۔اپنا خطاب جاری رکھتے ہوئے حضور نے فرمایا کہ گزشتہ برس اور اس سال کے آغاز میں میں نے مشرقی اور مغربی افریقہ کے ممالک کا دورہ کیا تو میں نے انہیں بھی یہ پیغام دیا۔کئی حکومتوں نے انتہائی محبت اور شفقت کا سلوک کیا یہاں تک کہ سیرالیون کے صدر صاحب نے اپنا ذاتی ہیلی کاپٹر وہاں میرے قیام کے دوران میرے لئے وقف کر دیا۔اپنا ایک وزیر میرے ہمراہ کیا جو میرے ساتھ رہا۔میں کسی حکومت کا نمائندہ تو نہ تھا۔مگر جو کچھ ہوا وہ عام سیاسی معمول کے برعکس تھا اور محلاتی اصولوں اور قوانین کے بھی خلاف تھا۔مگر یہ کیا تھا؟ یہ افریقن مہمان نوازی تھی، افریقن فراخدلی تھی اور افریقن خلوص اور محبت تھی۔میں نے ان سے کہا کہ اگر آپ نے باوجود موجودہ تکالیف اور تنگیوں کے ان قدروں کو قائم رکھا اور ختم نہ ہونے دیا تو آپ زندہ رہیں گے اور آپ کا مستقبل تابناک ہوگا۔کتاب کی تقریب رونمائی اور عشائیہ کی تقریب مسلسل چھ گھنٹے پر مشتمل تھیں۔عموما لوگ اتنی لمبی تقاریب کے عادی نہیں ہوتے لیکن یہاں ہر مہمان نہایت بقاش، خوش اور مطمئن تھا۔سیاستدانوں، صحافیوں اور دانشوروں نے دل کھول کر اپنی مسرت کا اظہار کیا۔وہ بعد میں حضور کے ساتھ محو گفتگو بھی رہے۔جماعت کینیڈا کی تاریخ میں یہ پہلی جماعتی تقریب تھی جس میں اس کثرت سے وزراء، دارالعوام(House of Commons) کے اراکین، مختلف شہروں کے میئرز اور اعلی تعلیم یافتہ