سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 714 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 714

714 سارے خود غرضی پر مبنی ہیں۔یہ لوگ سادہ دل ہیں اور اعتماد کرنے والے ہیں اس لیے رفتہ رفتہ ان کی اقتصادی باگ ڈور، اقتصادی نظام کلیه بیرونی ہاتھوں کے قبضہ میں جاچکا ہے اور ابھی تک وہ ان مظلوموں اور غریبوں کو لوٹنے سے باز نہیں آرہے یہاں تک کہ دن بدن ان کی اقتصادی بدحالی بڑھتی چلی جارہی ہے۔افریقہ کے تمام ممالک کا کم و بیش یہی حال ہے کہ ان تمام ممالک کی اکثریت زیادہ تعلیم نہیں رکھتی اور جو حصہ تعلیم پا جاتا ہے بد قسمتی سے تعلیم کے ساتھ مغربی اثر کے نیچے چلا جاتا ہے اور مغربی تہذیب اس پر ایسا قبضہ کر لیتی ہے کہ اس کی طرز زندگی بدل دیتی ہے۔یہاں تک کہ بلا استثناء ہر ملک میں آپ یہ دیکھیں گے کہ مغربی تہذیب کے تابع، مغربی تہذیب کے غلام بنے ہوئے جتنے بھی لوگ ہیں ان سب کی زندگی کا انحصار اپنے ملک کی پیداوار پر نہیں بلکہ غیر ملکی پیداوار پر اس حد تک ہو چکا ہے کہ اب وہ غیر ملکوں سے اپنے تعیش اور اپنے آرام کی چیزیں منگوائے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے۔۔۔۔۔ایک مذہبی جماعت کے رہنما کے طور پر میں سمجھتا ہوں کہ اس خرابی کا اس قوم کے اخلاق پر بہت برا اثر پڑنے کا خطرہ موجود ہے اور ایک مذہبی رہنما کے طور پر جماعت احمدیہ کو خصوصیت سے ہدایت کرتا ہوں کہ وہ ان تمام امور میں افریقہ کی ہر طرح سے مدد کے لیے تیار ہو۔۔۔۔۔۔مغربی تہذیب کا اور مغربی طرز زندگی کا خلاصہ یہ ہے کہ بڑی بڑی شاندار عمارتیں ہوں، بہت ہی قیمتی سامان سے مزین ہوں، نہایت قیمتی صوفہ سیٹ ، نہایت اعلی آرٹسٹ کی بنائی ہوئی تصویریں اور دیگر آرائش کی بعض چیزیں، بہترین کاریں ہوں، نئے سے نئے ماڈل ہوں، ٹیلی وژنز ہوں، ویڈیو کیسٹ ہوں، ریڈیو ہوں اور ان سب چیزوں کے ساتھ ایسے نہایت گندے اور اخلاق سوز پروگرام بھی ہوں کہ جولوگوں کی توجہ مادہ پرستی کی طرف کرتے چلے جائیں اور انہیں ایک قسم کی افیم کا عادی بنا دیں کہ ان تعنیش کی باتوں کے بغیر وہ زندہ نہ رہ سکیں۔اسی طرح مغربی تہذیب آپ کے خداؤں کے ذوق میں بھی ایک نمایاں تبدیلی پیدا کر دیتی ہے۔آپ کو مقامی غذاؤں کی بجائے ایک طلب پیدا ہو جاتی ہے کہ یورپ اور امریکہ کے بنے ہوئے پنیر کے ڈہے، وہاں کے بنے ہوئے چاکلیٹ، وہاں کی بنی ہوئی آئس کریمیں، وہاں کے بنے ہوئے کوکا کولا، وہاں کے بنے ہوئے بسکٹوں کے ڈبے اور ہر قسم کے دوسرے سلمان یہ