سلسلہ احمدیہ — Page 691
691 حضرت خلیفہ مسیح الرابع رحمہ اللہ نے پاکستان سے ہجرت سے قبل ملک کے اندر بھی بعض سفر اختیار فرمائے اور بیرون پاکستان بھی۔اسی طرح انگلستان ہجرت کے بعد برطانیہ کے اندر بھی مختلف سفر کئے اور یورپ، امریکہ، کینیڈا، افریقہ، آسٹریلیا، ایشیا اور فار ایسٹ کے مختلف ممالک کے بھی سفر اختیار فرمائے۔ان سفروں میں مجموعی طور پر ہزاروں بلکہ لاکھوں افراد نے آپ سے ذاتی یا اجتماعی ملاقاتوں کا شرف حاصل کیا اور آپ کے پُر تاثیر خطبات و خطابات اور پر حکمت نصائح اور محبت بھری دعاؤں سے فیضیاب ہوئے اور خلیفہ وقت کی زیارت و ملاقات کی برکات کے روشن نشانات کو اپنی ذات میں اور اپنے ماحول میں جلوہ گر دیکھا اور یوں ان کے ایمانوں کو ایک نئی جلائی اور ان کی زندگیوں میں پاک روحانی تبدیلیاں ظاہر ہوئیں۔ان مبارک لہی سفروں کے دوران جماعتوں کی تعلیم و تربیت، ترقی و استحکام، تبلیغ اور دعوت الی اللہ کے کاموں میں تیزی اور وسعت پیدا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو بہت سی تجاویز سمجھائیں اور آپ نے ان پر عملدرآمد کے لیے باہمی مشوروں اور غور و فکر کے بعد ٹھوس منصوبے اور لائحہ عمل جماعت کے سامنے رکھے۔ان مبارک سفروں کے دوران اور ان کے بعد آپ نے اپنے خطبات و خطابات میں ایسے متعدد امور کا ذکر فرمایا۔ان سفروں میں افراد جماعت کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں اور مجالس عرفان اور جماعت کی ملکی مجالس شوری کے انعقاد، مختلف شعبہ جات کی کار کردگی اور جماعت کی بڑھتی ہوئی ضرورتوں کے جائزہ کے ساتھ انتظامی امور کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کے علاوہ غیر احمدیوں اور غیر مسلموں کے ساتھ تبلیغی مجالس سوال و جواب، ریڈیو، ٹی وی اور اخبارات و میڈیا کے نمائندوں کو انٹرویوز، پریس کانفرنسز، کئی ممالک میں یونیورسٹیز، اہم اداروں اور تنظیموں کی دعوت پر اسلام احمدیت کے اصل پیغام پر مشتمل نہایت فاضلانہ خطابات، نئی مساجد ومشن ہاؤسز اور تعلیمی وظبی اور رفاہی اداروں کے قیام یا ان میں توسیع کے لیے سنگ بنیاد کی تقریبات یا ان کے افتتاح ، جماعتوں کے جلسہ ہائے سالانہ کے علاوہ مختلف ممالک کے دورہ جات کے دوران استقبالیہ تقریبات میں شمولیت وغیرہ کے متعدد پروگرام ہوئے۔