سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 690 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 690

690 ظنی طور پر انسان میں آجاتا ہے یہاں تک کہ اس کا رحم خدا تعالیٰ کا رحم اور اس کا غضب خدا تعالیٰ کا غضب ہو جاتا ہے اور بسا اوقات وہ بغیر کسی دعا کے کہتا ہے کہ فلاں چیز پیدا ہو جائے تو وہ پیدا ہو جاتی ہے اور کسی پر غضب کی نظر سے دیکھتا ہے تو اس پر کوئی وبال نازل ہو جاتا ہے اور کسی کو رحمت کی نظر سے دیکھتا ہے تو وہ خدا تعالیٰ کے نزدیک مورد رحم ہو جاتا ہے اور جیسا کہ خدا تعالیٰ کا کن دائمی طور پر نتیجہ مقصودہ کو بلا تخلف پیدا کرتا ہے ایسا ہی اس کا گن بھی اس تموج اور تذکی حالت میں خطا نہیں جاتا۔ان اقتداری خوارق کی اصل وجہ یہی ہوتی ہے کہ یہ شخص شدت اتصال کی وجہ سے خدائے عزوجل کے رنگ سے ظلمی طور پر رنگین ہو جاتا ہے اور تجلیات الہیہ اس پر دائی قبضہ کر لیتے ہیں اور محبوب حقیقی مجب حائلہ کو درمیان سے اٹھا کر نہایت شدید قرب کی وجہ سے ہم آغوش ہو جاتا ہے اور جیسا کہ وہ خود مبارک ہے ایسا ہی اس کے اقوال و افعال و حرکات اور سکنات اور خوراک اور پوشاک اور مکان اور زمان اور اس کے جمیع لوازم میں برکت رکھ دیتا ہے۔تب ہر یک چیز جو اس سے مس کرتی ہے بغیر اس کے جو یہ دعا کرے برکت پاتی ہے۔اس کے مکان میں برکت ہوتی ہے۔اس کے دروازوں کے آستانے برکت سے بھرے ہوتے ہیں۔اس کے گھر کے دروازوں پر برکت برستی ہے جو ہر دم اس کو مشاہدہ ہوتی ہے اور اس کی خوشبو اس کو آتی ہے۔جب یہ سفر کرے تو خدا تعالی معہ اپنی تمام برکتوں کے اس کے ساتھ ہوتا ہے اور جب یہ گھر میں آوے تو ایک دریا نور کا ساتھ لاتا ہے۔غرض یہ عجیب انسان ہوتا ہے جس کی گنه بجز خدا تعالیٰ کے اور کوئی نہیں جانتا۔“ آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 68-69) جماعت احمدیہ کی تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے خلفائے کرام کے تمام سفر ہی سفر تھے۔ان کی غرض افراد جماعت سے ملاقات، ان کی تعلیم وتربیت اور تزکیہ اور اشاعت اسلام و تمکنت دین ہی تھی۔اور احادیث نبوی اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے مذکورہ بالا فرمودات اپنی تمام تر عظمتوں کے ساتھ ان لقمی سفروں پر منطبق ہوئے اور ایک عالم نے دیکھا اور یہ ایک جاری سلسلہ ہے) کہ خلفاء مسیح موعود علیہ السلام کے سفر نہایت ہی مبارک اور خدا تعالی کے بے انتہا فضلوں اور رحمتوں اور اس کی تائید و نصرت کے نشانوں سے معمور ہیں۔