سلسلہ احمدیہ — Page 689
689 مبارک للهی سفر آنحضرت ﷺ کی احادیث مبارکہ میں بیان کیا گیا ہے کہ جب کوئی مومن اپنے کسی بھائی کی زیارت اور ملاقات کے لیے محض اللہ گھر سے نکلتا ہے تو اسے اللہ تعالیٰ کے فرشتوں کی معیت نصیب ہوتی ہے جو اسے بشارت دیتے ہیں کہ تیرا یہ سفر بہت مبارک ہے۔(صحيح مسلم كتاب البر والصلة والآداب (الأدب) باب في فضل الحب في الله - حدیث نمبر 2567 مشكوة المصابيح كتاب الآداب) جب ایک عام مومن کے لیے یہ بشارت ہے تو امیر المومنین کے وہ اسفار جو وہ خالصہ اللہ جماعت مومنین کو شرف ملاقات وزیارت بخشنے اور اپنے بابرکت وجود کی ان کے درمیان بنفس نفیس موجودگی کا فیض عطا کرنے اور خدا تعالیٰ کے دین کی اشاعت اور اس کی سربلندی و تمکنت کے لیے اختیار فرماتے ہیں وہ سفر تو یقینا عند اللہ غیر معمولی عظمت اور شان کے حامل اور بیحد مبارک ہوں گے۔اسی طرح وہ تمام مومنین مردوزن بھی جو اپنے محبوب روحانی امام کی ملاقات وزیارت کا شرف حاصل کرنے، آپ کے دیدار سے اپنی آنکھوں کو ٹھنڈا کرنے، آپ کی مستجاب دعاؤں سے آپ کی مقدس صحبت میں بیٹھ کر حصہ پانے اور براہ راست آپ کے خطبات و خطابات اور مکالمات سے فیضیاب ہونے کی غرض سے ان مرا کز تک پہنچنے کے لیے جہاں امیر المومنین ورود فرما ہوں جو سفر اختیار کرتے ہیں یقینا خدا کے فرشتے حسب ارشادات نبی اکرم یہ ان سب کو بھی خدا کے فضل سے ان کے سفروں کے مبارک ہونے کی بشارتیں دیں گے اور وہ وہاں سے برکتیں سمیٹ کر لوٹیں گے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام لقاء کے مرتبہ پر فائز اللہ تعالیٰ کے خاص مقربین کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: کتا کا مرتبہ میسر آتا ہے تو اس مرتبہ کے تموج کے اوقات میں انہی کام ضرور اس سے صادر ہوتے ہیں اور ایسے شخص کی گہری صحبت میں جو شخص ایک حصہ عمر کا بسر کرے تو ضرور کچھ نہ کچھ یہ اقتداری خوارق مشاہدہ کرے گا کیونکہ اس تموج کی حالت میں کچھ انہی صفات کارنگ