سلسلہ احمدیہ — Page 666
666 کے بعد، قتل ہونے والے مولویوں کی تعداد طبعی موت مرنے والے مولویوں سے بڑھ گئی۔55 مولوی اس عرصے میں قتل ہوئے ہیں اور صرف 41 طبعی موت مرے ہیں۔اب آنکھیں نہیں ہیں ان کے پاس جو یہ دیکھ سکیں اور پہچان سکیں کہ یہ کیا ہورہا ہے۔ملک سے جو امن اللہ چکا ہے اس کا حال اب یہ ہے کہ مباہلہ کے اس عرصے میں 2,644 افراد دہشتگردی اور بم کے دھماکوں سے مارے گئے ہیں۔حادثوں کی تعداد میں بے انتہا اضافہ ہوا ہے، گینگ ریپ (Gang Rape) جو ان کے اسلام کی نشانی بن چکا ہے وہ 292 واقعات ہوئے ہیں کہ اسلامی ملک کہلانے والے پاکستان میں جس کو مولوی پلیدستان کہا کرتے تھے واقعتا ان مولویوں نے اسے پلیدستان بنا کر چھوڑا ہے اور اس وقت اس تعداد میں گینگ ریپ ہورہے ہیں جو انسان تصور بھی نہیں کر سکتا کہ کیسی ظالمانہ اور سفاکانہ کارروائی ہے۔عورتوں اور بچوں کے اغواء کی جور پورٹس درج ہوتی ہیں وہ ساری نہیں ہیں، اکثر رپورٹیں پولیس تھانے پہ جانے سے پہلے دباؤ کے نیچے واپس لے لی جاتی ہیں اور جو تھانوں میں پہنچتی ہیں وہاں مخالفین کا دباؤ پڑتا ہے اور تھانوں سے واپس کر دی جاتی ہیں۔مگر 314 رپورٹیں ایسی ہیں جو بچوں اور عورتوں کے اغوا پر مشتمل ہیں۔ڈکیتی کا معاملہ کلیہ ہاتھ سے نکل چکا ہے۔آئے دن اس کثرت کے ساتھ ملک کی گلی گلی میں سڑک سڑک پر ڈکیتی ہورہی ہے کہ کسی کو کچھ پتہ نہیں کہ اس کی جان کس ڈاکو کے ہاتھ میں ہے اور اُس کا مال و دولت کسی سڑک پر برباد ہو گا۔اس سلسلے میں میں مشیر قانون خالد انور کا یہ بیان آپ کے سامنے رکھتا ہوں اور یہی بیان مباہلے کی کامیابی کے حق میں بہت کافی سمجھا جانا چاہئے۔ہے۔اخبار ہفت روزہ Nation میں 23 تا 29 مئی کے واقعات کے متعلق یہ بیان ملتا دو گزشتہ چار سال میں مذہبی دہشت گردی میں اتنے لوگ نہیں مارے گئے جتنے کہ 97ء کے پہلے چار ماہ میں بلاک ہوئے۔“ مباہلے کے بعد پہلے چار ماہ میں مذہبی دہشتگردی کے نتیجے میں مارے جانے والوں کی تعداد گزشتہ چار سال میں دہشت گردی کے نتیجے میں مارے جانے والوں سے زیادہ تھی۔