سلسلہ احمدیہ — Page 657
657 وہ مظلوم انسان حق پر قائم رہا۔اس نے مجھے ایک خط لکھا جس میں تھا کہ میں اس حالت میں ہوں۔اور ایک اور احمدی نے اس کے متعلق خط لکھا۔حضور رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اُس خط کے بعد میں نے جو جواب لکھوایا وہ یہ تھا کہ الحمدللہ احمدیت کو ایک اور موقع احمدیت کی صداقت کا نشان ظاہر کرنے کا حاصل ہوا ہے۔پس تم ہر گز اس بد بخت انسان سے نہ گھبراؤ۔ایک خط اس کے نام مباہلے کے چیلنج کے طور پر لکھ دو اور کہو کہ اب جبکہ یہ چیلنج ہو چکا ہے تم اسے قبول کر لو اور دنیا دیکھ لے گی کہ تم سچے ہو کہ مرزا طاہر احمد سچا ہے؟ حضور رحمہ اللہ نے امیر صاحب ضلع سیالکوٹ کے نام اپنے خط محررہ 28 رمئی میں منظور الہی اعوان کے متعلق تحریر فرمایا تھا کہ ان لوگوں کی پکڑ کے دن قریب ہیں۔یہ شخص حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کے متعلق نہایت غلیظ زبان استعمال کیا کرتا تھا۔اور کہتا تھا کہ آپ گندی جگہ میں یعنی ٹھی میں فوت ہوئے۔( نعوذ باللہ )۔اور بار بار یہ بکو اس کیا کرتا تھا۔16 جون 1997ء کو رات کسی وقت یہ شخص پیشاب کرنے کے لئے اٹھا اور وہیں ٹائلٹ میں گرا اور مردہ حالت میں پایا گیا اور اسی تنگی حالت میں اس کی لاش کو گھسیٹ کر باہر نکالا گیا۔حضور نے فرمایا:۔۔یہ مباہلہ عالمی تھا اور ہر جگہ خدا نے کسی نہ کسی رنگ میں عظیم نشان دکھاتے ہیں۔“ آئیوری کوسٹ کے امیر جماعت عبدالرشید صاحب انور۔۔لکھتے ہیں کہ وہاں کا ایک مشہور امام تعصب میں حد سے زیادہ بڑھ گیا تھا اور مبلغین کو سختی سے منع کیا کرتا تھا کہ علاقہ چھوڑ جائیں ورنہ میں بہت بُرا حال کروں گا۔(اس امام کا نام صدیق کر ا مو گو تھا۔ناقل ) حکومت کی طرف سے اس کے نائب کو حج کا ٹکٹ ملا۔اس ٹکٹ کو جو اس کے نائب کے لئے تھا اس نے اپنے قبضے میں کر لیا اور ابی جان لینچ کر اپنے نام کروا کر حج پر خاموشی سے روانہ ہوا۔لیکن گاؤں میں روانگی سے قبل کہنے لگا کہ میں سفر پر جارہا ہوں واپسی پر اب احمدیت کو اپنے پاؤں تلے روند ڈالوں گا۔سلگتے میں جو آگ لگی ہے اس آگ میں یہ شخص ہجوم کے پاؤں تلے کچلا گیا۔اور اپنے پاؤں کے نیچے احمدیت کو کچلنے کی بجائے وہاں ہی ہجوم کے پاؤں تلے