سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 658 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 658

658 کچلا جانے کی وجہ سے مرگیا۔جب اس کی موت کی خبر اس کے گاؤں پہنچی کہ سکتے میں اس کی موت اس انداز میں واقعہ ہوتی ہے تو گاؤں کے سب دوستوں نے اُس کے جنازے کا بائیکاٹ کر دیا اور کہا یہ منحوس موت ہے۔کوئی آدمی تعزیت کے لئے نہ پہنچا۔اس کی اپنی بیوی نے کہا کہ ایسے شخص کو ایسی ہی موت آنی چاہئے تھی اور اس طرح وہ سارے کا سارا علاقہ احمد بیت کا ایک زندہ نشان بن گیا۔حضور رحمہ اللہ نے فرمایا: جو حج کے موقع پر مٹی میں آگ لگی ہے۔مجھے یاد ہے کہ مجھ سے اس آگ کے متعلق مجلس سوال و جواب میں پوچھا گیا کہ کیا آپ کے نزدیک یہ مباہلے کا نتیجہ ہے تو جیسا کہ حق اور انصاف کا تقاضا تھا میں نے کہا مجھے بہت ہمدردی ہے اس آگ سے اور یونہی کسی مذاب کو اپنی صداقت کے طور پر پیش کرنے کا میرا شیوہ نہیں جب تک اللہ تعالیٰ اس کی تائید میں کچھ ظاہر نہ فرمائے۔میرے نزدیک یہ ایک دردناک حادثہ ہے اور ہمیں ان لوگوں سے ہمدردی کرنی چاہئے۔لیکن حج سے واپسی پر جو احمدیوں نے گواہیاں دیں ان میں ایک عزیزہ بچی کا محط بھی ہے۔۔۔اور کچھ بڑوں کی گواہیاں بھی ہیں۔وہ لکھتے ہیں کہ "آگ لگنے سے ایک دن پہلے خانہ کعبہ کے کپڑے کو تھام کر ایک مولوی یہ ڈھائیں کر رہا تھا اور تمام پاکستانی مولوی اور دوسرے لوگ اس کے پیچھے لگ گئے تھے۔وہ دعائیں یہ کر رہا تھا کہ میں فلاں شخص مرزا طاہر احمد کے چیلنج کو قبول کرتا ہوں۔اے اس خانے کے خدا اگر میں سچا 66 ہوں تو احمدیت کو بلاک کر اور اگر وہ سچے ہیں تو ہماری ہلاکت کا کوئی نشان ظاہر کر۔اور اس کے بعد جو آگ لگی اس میں یہ مولوی جل کر مر گیا۔“ فلپائن میں بھی آگ ہی کا ایک نظارہ دیکھا گیا۔ایک مولوی حبیب زین نامی جو احمدیت کا شدید مخالف تھا اُس کے متعلق خیر الدین با روس صاحب لکھتے ہیں کہ : اس نے جب حد سے زیادہ احمدیت کے خلاف بکو اس کی تو اسی مباہلے کے کچھ عرصے کے بعد یعنی 26 را پریل 1997ء میں وہی شخص کسی ہوٹل میں جا کر ٹھہر جس ہوٹل کو آگ لگ گئی اور اس آگ لگنے کے نتیجے میں صرف ایک آدمی ہے جس نے ہوٹل سے چھلانگ لگائی اور